کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 178
فرمانِ نبوی ہے:’لَا یَرْمِي رَجُلٌ رَّجُلًا بِالْفُسُوقِ،وَلَا یَرْمِیہِ بِالْکُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلیْہِ إِنْ لَّمْ یَکُنْ صَاحِبُہٗ‘ ’’جو شخص کسی کو گناہ یا کفر کا الزام دیتا ہے اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ(الزام)اسی پر لوٹ آتا ہے۔‘‘ [1] ارشادِ نبوی ہے:’اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا،فَعَلَی الْبَادِیئِ مَالَمْ یَعْتَدِ الْمَظْلُومُ‘ ’’آپس میں دو گالیاں دینے والے جو کچھ کہیں(ان کا گناہ)ابتدا کرنے والے کے سر پر ہے،جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔‘‘ [2] حدیثِ نبوی ہے:’لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ،فَإِنَّہُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلٰی مَا قَدَّمُوا‘ ’’مُردوں کو گالی نہ دو کیونکہ وہ ان اعمال تک پہنچ چکے ہیں جو انھوں نے آگے بھیجے ہیں۔‘‘ [3] آپ نے فرمایا: ((مِنَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ،قَالُوا:یَا رَسُولَ اللّٰہِ!وَہَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ:نَعَمْ،یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ،وَ یَسُبُّ أُمَّہٗ فَیَسُبُّ أُمَّہٗ)) ’’ایک انسان کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:’’اے اللہ کے رسول!کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟‘‘ فرمایا:’’ہاں،ایک شخص دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دے گا اور اسی طرح اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دے گا۔‘‘[4] 13: کوئی مسلمان دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرے،اس کے بارے میں برا گمان اور بغض نہ رکھے اور اس کی جاسوسی بھی نہ کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾ ’’اے ایمان والو!زیادہ بدگمانیوں سے بچو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے۔‘‘[5] ارشادِ باری ہے:﴿لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا﴾ ’’جب تم نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے حق میں حسنِ ظن کیوں نہ رکھا؟‘‘ [6] [1] صحیح البخاري، الأدب، باب ماینھٰی من السباب واللعن، حدیث: 6045۔ [2] صحیح مسلم، البر والصلۃ،باب النہي عن السباب، حدیث: 2587۔ [3] صحیح البخاري، الجنائز، باب ماینہٰی من سب الأموات، حدیث: 1393۔ [4] صحیح البخاري، الأدب، باب لایسب الرجل والدیہ، حدیث: 5973، وصحیح مسلم، الإیمان، باب الکبائر و أکبرہا، حدیث: 90 واللفظ لہ۔ [5] الحجرات 12:49 [6] النور 12:24۔