کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 173
رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)،سربراہانِ اہلِ اسلام اور عام مسلمانوں کے لیے۔‘‘ [1] مزید فرمایا:((لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ)) ’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتی کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘[2] نیز ارشاد فرمایا:’مَثَلُ الْمُؤْمِنِینَ فِي تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَ تَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ،إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدَ بِالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی‘ ’’آپس میں محبت،ایک دوسرے پر رحم اور مہربانی میں سب ایمان دار ایک جسم کے مانند ہیں،اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو اس کی وجہ سے سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘ [3] ایک اور فرمان ہے:’اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا‘ ’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس عمارت کی طرح ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘[4] 7: اگر کسی جگہ اس کی مدد اور تائید کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرنے میں دریغ نہ کرے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’اُنْصُرْ أَخَاکَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا‘ ’’اپنے بھائی کی مدد کر،خواہ وہ ظالم ہے یا مظلوم۔‘‘ [5] آپ سے سوال ہوا کہ ظالم کی مدد کیسے؟ فرمایا:’تَأْخُذُ فَوْقَ یَدَیْہِ‘ ’’اس کے ہاتھوں کو پکڑ(اور ظلم کرنے سے باز رکھ،یہی تیری اس کے لیے مدد ہے۔)‘‘ [6] نیز فرمایا:’اَلْمُسْلِمُ أَخُوالْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَ لَا یَخْذُلُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ‘ ’’مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے،نہ اسے رسوا کرتا ہے اور نہ ہی اس کی تحقیر کرتا ہے۔‘‘[7] مزید فرمایا:’مَا مِنِ امْرِیئٍ یَّخْذُلُ امْرَئً ا مُسْلِمًا فِيمَوْضِعٍ یُّنْتَہَکُ فِیہِ حُرْمَتُہٗ وَ یُنْتَقَصُ فِیہِ مِنْ عِرْضِہٖ إِلَّا خَذَلَہُ اللّٰہُ فِي مَوْطِنٍ یُّحِبُّ فِیِہِ نُصْرَتَہٗ،وَ مَا مِنِ امْرِیئٍ یَّنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ [1] صحیح البخاري، الإیمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ’الدین النصیحۃ‘، قبل الحدیث: 57، وصحیح مسلم، الإیمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ، حدیث: 55۔ [2] صحیح البخاري، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ مایحب لنفسہ، حدیث: 13، وصحیح مسلم، الإ یمان، باب الدلیل علی أن من خصال الإیمان أن یحب لأخیہ المسلم مایحب لنفسہ، حدیث: 45۔ [3] صحیح البخاري، الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم، حدیث: 6011، وصحیح مسلم، البر والصلۃ،باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم وتعاضدھم،حدیث: 2586 واللفظ لہ۔ [4] صحیح البخاري، المظالم، باب نصرالمظلوم، حدیث: 2446، وصحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم و تعاضدہم، حدیث: 2585۔ [5] صحیح البخاري، المظالم، باب أعن أخاک ظالمًا أومظلومًا، حدیث: 2444۔ [6] صحیح البخاري، المظالم، باب أعن أخاک ظالماً أومظلوماً، حدیث: 2444، والإکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ أنہ أخوہ:، حدیث: 6952۔ [7] صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم، حدیث: 2564۔