کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 171
یَرْحَمُکَ اللّٰہُ،فَلْیَقُلْ:یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ‘ ’’جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے تو ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘کہے،پھر چاہیے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی اسے ’یَرْحَمُکَ اللّٰہُ‘ کہے اور(پہلا)اسے جواب دے:’یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ‘[1] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھینک کے وقت اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ پر رکھ لیتے تھے اور اس طریقے سے آواز پست کرتے۔[2] 3: اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے اور شفا کی دعا مانگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ،وَعِیَادَۃُ الْمَرِیضِ،وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ،وَ إِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ،وَ تَشْمِیتُ الْعَاطِسِ‘ ’’مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں:سلام کا جواب دینا،بیمار کی عیادت کرنا،جنازے کے پیچھے جانا،دعوت قبول کرنا اور چھینک مارنے والے(کی چھینک)کا جواب دینا۔‘‘ [3] براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِعِیَادَۃِ الْمَرِیضِ،وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ،وَ تَشْمِیتِ الْعَاطِسِ،وَ إِبْرَارِ الْمُقْسِمِ،وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ،وَ إِجَابَۃِ الدَّاعِي،وَ إِفْشَائِ السَّلَامِ‘ ’’ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی بیمار پرسی کرنے،جنازے کے ساتھ جانے،چھینک کا جواب دینے،قسم ڈالنے والے کی قسم پوری کرنے،مظلوم کی مدد کرنے،دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام کوعام کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ [4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’أَطْعِمُوا الْجَائِعَ،وَعُودُوا الْمَرِیضَ،وَ فُکُّوا الْعَانِيَ۔الْأَسِیرَ۔‘ ’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ۔بیمار کی بیمار پرسی کرو اور قیدیوں کو آزاد کرو(اور کراؤ۔)‘‘ [5] امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل میں سے کسی کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے اور فرماتے: ((اَللّٰہُمَّ!رَبَّ النَّاسِ أَذْہِبِ الْبَأْسَ،اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَائُ کَ شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا)) [1] صحیح البخاري، الأدب، باب إذا عطس کیف یشمت،حدیث: 6224، ومسند أحمد: 8/6۔ [2] [صحیح] سنن أبي داود، الأدب، باب في العطاس، حدیث: 5029، اسے امام ترمذی نے صحیح کہا ہے۔ [3] صحیح البخاري، الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز، حدیث: 1240، وصحیح مسلم، السلام، باب من حق المسلم للمسلم رد السلام، حدیث: 2162۔ [4] صحیح البخاري، الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز، حدیث: 1239، والاستئذان، باب إفشاء السلام، حدیث: 6235۔ [5] صحیح البخاري، المرضٰی، باب وجوب عیادۃ المریض، حدیث: 5649۔