کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 156
جائے گا اور سر کے بال اتارے جائیں گے۔‘‘ [1] نیز فرمایا: ’اَلْفِطْرَۃُ خَمْسٌ:اَلْخِتَانُ،وَالاِسْتِحْدَادُ،وَ قَصُّ الشَّارِبِ،وَ تَقْلِیمُ الْأَظْفَارِ،وَ نَتْفُ الإِْبِطِ‘ ’’پانچ چیزیں فطرت میں داخل ہیں:ختنہ کرنا،زیر ناف بال صاف کرنا،مونچھیں کاٹنا،ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھاڑنا۔‘‘ [2] مزید فرمایا:’أَکْرِمُوا أَوْلَادَکُمْ وَ أَحْسِنُوا أَدَبَہُمْ‘ ’’اپنی اولاد کی عزت کرو اور ان کے آداب بہتر بناؤ۔‘‘ [3] ارشادِ عالی ہے:’سَوُّوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ فِي الْعَطِیَّۃِ،فَلَوْ کُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَّفَضَّلْتُ النِّسَائَ‘ ’’عطیہ دینے میں اپنی اولاد میں برابری کرو۔اگر میں(اولاد میں سے)کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو دیتا۔‘‘ [4] مزید فرمایا:’مُرُوا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَ ہُمْ أَبْنَائُ سَبْعِ سِنِینَ،وَاضْرِبُوہُمْ عَلَیْہَا وَ ہُمْ أَبْنَائُ عَشْرِ سِنِیْنَ،وَ فَرِّقُوا بَیْنَہُمْ فِي الْمَضَاجِعِ‘ ’’جب تمھارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انھیں نماز کا حکم دو اور اگر دس سال کے ہو جائیں تو انھیں نماز کے لیے مارو اور انھیں الگ الگ بستروں میں سلاؤ۔‘‘[5] ایک حدیث میں والد پر اولاد کے حقوق کی بابت یہ بھی آیا ہے کہ وہ ان کی تربیت کرے اور اچھا نام رکھے۔[6] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:والد پر اولاد کے حقوق میں یہ بھی ہے کہ انھیں لکھنا،پڑھنا اور تیر اندازی سکھائے اور انھیں صرف حلال خوراک مہیا کرے۔[7] [1] سنن أبي داود، الضحایا، باب في العقیقۃ، حدیث: 2838، وجامع الترمذي،الأضاحي، باب من العقیقۃ، حدیث: 1522، واللفظ لہ، امام ترمذی کے علاوہ ابن الجارود، حاکم، ذہبی اور عبدالحق اشبیلی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے، علمائے کرام نے اس کا ایک مطلب یہ بتایا ہے کہ جس بچے کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو اور وہ بچہ فوت ہوجائے تو وہ اپنے والدین کے حق میں شفاعت نہیں کرتا تو جس طرح صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کرکے اپنی گروی چیز چھڑالی جاتی ہے، اسی طرح ہر صاحبِ استطاعت والد بھی اللہ کی نعمت اولاد کے شکرانے میں عقیقہ کرکے قیامت کے دن اپنے بچے کی شفاعت کو حاصل کرلے۔ واللہ اعلم۔ (ع،ر) [2] صحیح البخاري، اللباس، باب تقلیم الأظفار، حدیث: 5891، وصحیح مسلم، الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، حدیث: 257۔ [3] [ضعیف] سنن ابن ماجہ، الأدب، باب بر الوالد والإحسان إلی البنات، حدیث: 3671، اس کی سند سعید بن عمارہ اور حارث بن نعمان کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [4] [ضعیف] السنن الکبرٰی للبیھقي: 177/6، والمعجم الکبیر للطبراني: 354/11، اس کی سند ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کا بنیادی راوی سعید ابن یوسف الرحبی ضعیف ہے۔جبکہ اس روایت کے پہلے جملے کے لیے شاہد بخاری و مسلم کی حدیث ’واعدلوا بین أولادکم‘ نہیں ہے کیونکہ عدل اور تسویہ میں فرق ہے۔ [5] [صحیح] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ، حدیث: 495، اور جامع ترمذی، حدیث: 407 وغیرہ میں اس کاصحیح شاہد بھی ہے۔ [6] شعب الإیمان للبیہقي: 400/6۔ [7] شعب الإیمان للبیہقي: 401/6، وجامع الأحادیث: 134/12۔