کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 148
اور بعض نے مراقبہ کی بابت درج ذیل اشعار ذکر کیے ہیں: إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّہْرَ یَوْمًا فَلَا تَقُلْ خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِیْبُ ’’جب توکبھی کسی جگہ اکیلا ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہوں بلکہ یہ کہہ کہ میرے اوپر ایک نگران ہے۔‘‘ وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ یَغْفُلُ سَاعَۃً وَلَا أَنَّ مَا تُخْفِي عَلَیْہِ یَغِیبُ ’’اور یہ گمان مت کر کہ اللہ ایک لمحہ بھی غافل ہے اور نہ یہ گمان کر کہ جو کچھ تو اس سے چھپاتا ہے،وہ چیز اس سے غائب ہے۔‘‘ أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْیَوْمَ أَسْرَعُ ذَاہِبٍ وَأَنَّ غَدًا لِّلنَّاظِرِینَ قَرِیبُ ’’کیا تو نہیں دیکھتا کہ آج کا دن کتنی تیزی سے جا رہا ہے اور آنے والا کل،دیکھنے والوں کے کتنا قریب ہے۔‘‘[1] 3 محاسبہ: ایک مسلمان اپنے آپ کا محاسبہ اس طرح کرے کہ وہ دنیا کی اس زندگی میں دن رات نیک عمل کرتا رہے تاکہ دارِ آخرت میں یہ عمل اس کے لیے مفید بن جائیں،اس کی عزت افزائی کا باعث بنیں اور اسے اللہ جل شانہ کی رضاحاصل ہو۔دنیا کاروبار کا زمانہ ہے جس میں اللہ عزوجل کے مقرر کردہ فرائض اصل سرمایہ ہیں جن کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔نوافل اصل سرمایہ سے زائد منافع ہیں جس کے لیے پوری توجہ دینی چاہیے اور گناہ و معاصی سرمائے کا خسارہ ہیں جن سے ہمیں بچنا ہے۔ہر دن انسان اپنے یومیہ عمل کا اس طرح محاسبہ کرے کہ اگر فرائض میں کمی آ رہی ہے تو خود کو ملامت کرے،زجر و توبیخ کرے اور ان کی تلافی کی کوشش شروع کر دے،اگر ان کی قضا ہو سکتی ہے تو کرے اگر قضا ممکن نہیں تو نوافل سے ان کی تلافی کرے،اسی طرح اگر نوافل میں کمی محسوس کرتا ہے تو اس کمی کو پورا کرے اور اگر گناہوں کے ارتکاب سے خسارہ ہو رہا ہے تو استغفار،ندامت،انابت اور عملِ خیر کے ذریعے خرابی کی اصلاح کرے۔محاسبۂ نفس کا یہی مطلب ہے اور نفس کی اصلاح،تزکیہ اور تطہیر کا یہی ایک راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ ’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ہر نفس دیکھے کہ کل(قیامت)کے لیے اس نے کیا آگے بھیجا ہے۔اور اللہ سے ڈرو،بے شک اللہ تمھارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔‘‘ [2] یہاں اللہ تعالیٰ کے فرمان:وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ میں نفس کے محاسبہ کا حکم ہے کہ اس نے کل،جس کا انتظار کیا جا رہا ہے،کے لیے کیا کچھ آگے بھیجا ہے۔ نیز فرمایا:﴿وَتُوبُوا إِلَى اللّٰهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [1] إحیاء علوم الدین: 472/4۔ [2] الحشر 18:59۔