کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 142
اس کے ہاں،اس کے والدین،اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہو جاؤں۔‘‘ [1] 5: ربِّ کائنات نے آپ کو خصوصی جسمانی و اخلاقی حسن و جمال سے نوازا ہے،نفس و ذات کے تمام تر کمالات آپ کو عطا کیے ہیں۔چنانچہ آپ سب سے زیادہ خوبصورت اور اکمل ہیں،پھر ایسی ذات کا احترام کیوں ضروری نہ ہو؟ آپ کے ادب کو واجب کر دینے والی چیزوں میں سے بعض امور کا ہم نے تذکرہ کردیا ہے۔اس سلسلہ میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ آخر آپ کا ادب ملحوظ رکھنے کا مقصد کیا ہے؟اور آپ کے احترام میں کیا امور داخل ہیں ؟ 1. ہر بات میں آپ کی پیروی کرنا اور دین و دنیا کی سب راہوں میں آپ کے نقشِ قدم پر چلنا ہی آپ کا ادب ہے۔ 2. آپ کی محبت اور توقیر و تعظیم پر کسی اور کی محبت اور توقیر و تعظیم فائق نہیں ہے،چاہے مخلوق میں سے کوئی بھی ہو۔ 3. جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی ہے،اس سے محبت اور جس سے دشمنی ہے،اس سے بغض اور جس کام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند کیا،اس پر رضا اور جس کام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ہیں،اس پر ناراض ہونا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب ہے۔ 4. آقائے نامدار(صلی اللہ علیہ وسلم)کے تذکرہ کے وقت آپ کے نام کی جلالت و توقیر کو ملحوظ رکھنا،آپ پر درود پڑھنا،آپ کی عاداتِ مبارکہ و صفاتِ عالیہ کو بڑا جاننا بھی آپ کا ادب ہے۔ 5. دین و دنیا کی جس بات کی نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے یا دنیاوی و اخروی حیات کے جن خفیہ گوشوں کی آپ نے نشاندہی کی ہے،اس کی پوری تصدیق کرنا۔ 6. آپ کے طریقۂ عالیہ کے احیا کی سعی کرنا اور شریعتِ اسلامیہ کو پھیلانا،نیز آپ کے پیغام کا ابلاغ اور آپ کی وصیتوں کا نفاذ بھی آپ کا ادب ہے۔ 7. جو شخص مسجد نبوی میں یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس آئے تو ادب و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی آواز پست رکھے۔ 8. آپ کی محبت کی بنیاد پر نیک لوگوں سے محبت اور ان سے دوستی رکھنا جبکہ فاسق ونافرمان لوگوں سے بغض و عداوت اور دشمنی رکھنا بھی آپ ہی کے ساتھ محبت کا اظہار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کے یہ چند نتائج ہیں،جنھیں ملحوظ رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس پر کمال و سعادت کا حصول موقوف ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کا تابع فرمان بنائے،دین کی نصرت میں ہم سے کام لے اور آخرت میں آپ کی شفاعت کا ہمیں مستحق بنائے۔آمین! [1] صحیح البخاري، الإیمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان، حدیث: 15,14، وصحیح مسلم، الإیمان، باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم :، حدیث: 44۔