کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 127
جذبات رکھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’اَلدِّینُ النَّصِیحَۃُ‘ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی:کس کے لیے خیر خواہی؟ تو آپ نے فرمایا:’لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَ لِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ وَعَامَّتِہِمْ‘ ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ،اس کی کتاب،اس کے پیغمبر،سربراہانِ امتِ مسلمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔‘‘[1] ٭ مسلم سربراہ خلیفہ اور سلطان کے ساتھ مل کر جہاد کرے،ان کے پیچھے نماز پڑھے،خواہ ان سے حدِّ کفر سے نیچے نیچے فسق و محرمات کا ارتکاب بھی ہو چکا ہوکیونکہ برے امراء کی اطاعت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اِسْمَعُوا وَ أَطِیعُوا،فَإِنَّمَا عَلَیْہِمْ مَّا حُمِّلُوا وَ عَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ‘ ’’سنو اور اطاعت کرو،وہ اپنی ذمہ داری کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داری نبھاؤ۔‘‘[2] سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَکْرَہِنَا وَ عُسْرِنَا وَ یُسْرِنَا،وَ أَثَرَۃٍ عَلَیْنَا،وَ أَنْ لَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ،قَالَ:إِلَّا أَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ فِیہِ بُرْہَانٌ)) ’’ہم نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ہاتھ پر سمع و اطاعت کی بیعت کی،خوشی ہو یا ناخوشی،مشکل ہو یا آسانی حتیٰ کہ اگر حاکم ہم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح دے،پھر بھی(ہم اس کی بات سنیں اور مانیں گے)اور یہ کہ حکومت والوں کی مخالفت اور ان سے جھگڑا نہیں کریں گے۔فرمایا:’’اِلاَّ یہ کہ تم ان میں صریح کفر دیکھو،جس(کے کفر ہونے)میں اللہ کی طرف سے تمھارے پاس کوئی ٹھوس دلیل اورحجت ہو(ایسی صورت میں تم پر ان کی اطاعت واجب نہیں۔)‘‘[3] [1] صحیح مسلم، الإیمان، باب بیان أنہ لا یدخل الجنۃ إلا المؤمنون:، حدیث: 55، وجامع الترمذي، البروالصلۃ، باب [ماجاء] في النصیحۃ، حدیث : 1926۔ اللہ تعالیٰ کی خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر کماحقہ ایمان لایا جائے، اس سے بڑھ کر کسی اورسے محبت نہ کی جائے اور شرک کے بغیر اس کی عبادت کی جائے۔ کتاب اللہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ مکمل احترام اور باقاعدگی کے ساتھ اسے صحیح طریقے سے پڑھا اور سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی یہ ہے کہ ان سے بھرپور محبت کی جائے، بدعات سے بچتے ہوئے ان کی سنت کو اپنایا جائے اور ہر شعبۂ حیات میں انھی کی بات کو باقی سب کی بات پر ترجیح دی جائے۔ امراء و حکام کی خیر خواہی یہ ہے کہ نیکی اور ہرجائز کام میں ان کی بات مانی جائے، خواہ اچھی لگے یا بری۔ اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی یہ ہے کہ بہتری کی جو بات آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی پسند کریں ۔ [2] صحیح مسلم، الإمارۃ، باب في طاعۃ الأمراء:، حدیث:1846۔ [3] صحیح البخاري، الأحکام، باب کیف یبایع الإمام الناس، حدیث: 7199، و صحیح مسلم، الإمارۃ، باب وجوب طاعۃ الأمراء:، حدیث: 1709-(42)بعد الحدیث: 1840 واللفظ لہ۔