کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 123
ان کی مائیں ہیں۔‘‘[1] قراء،محدثین اور فقہائے امت کے متعلق عقیدہ: ٭ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ان سے محبت کرے،ان کے لیے رحم کی دعا کرے،مغفرت طلب کرے اور ان کی شان و فضیلت کا اعتراف کرے کیونکہ قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں ان کا تذکرہ ہوا ہے:﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے احسان کے ساتھ(عقیدہ و عمل میں)ان(صحابہ)کی پیروی کی،اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔‘‘[2] اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِي،ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ،ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ‘ ’’سب سے بہتر میرا دور ہے،پھر ان لوگوں کا جو اس دور کے بعد ہوں گے،پھر ان کا جو اس کے بعد ہوں گے۔‘‘[3] عام قراء،فقہاء،محدثین اور مفسرین رحمۃ اللہ علیہم انھی قرونِ ثلاثہ(تین زمانوں)میں سے تھے،جن کا تذکرئہ خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں کیا ہے اور اللہ نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے سے پہلے جانے والے مومنوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾’’(بعد والے کہتے ہیں)اے ہمارے رب!ہماری اور جو ایمان لانے میں ہم سے پہلے سبقت لے گئے ان کی مغفرت فرما۔‘‘[4] اس حکم کی تعمیل میں مسلمان،تمام سابقہ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ ٭ اہل ایمان ان کا تذکرہ اچھائی کے ساتھ کرتے ہیں اور آداب ملحوظ رکھتے ہیں کہ وہ مجتہد اور دین میں مخلص تھے،بعد میں آنے والوں کی آراء کے مقابلے میں ان کی رائے کو برتری حاصل ہے،جس پرعمل کرنا چاہیے،اِلاَّ یہ کہ ان کی بات اللہ کے فرمان یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم کے قول کے مخالف ہو،ایسی صورت میں اسے ترک کر دینا لازم ہے۔ ٭ ائمہ اربعہ مالک،شافعی،احمد اور ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہم کے مدون کردہ مسائل اور ان کے بیان کردہ احکامِ دین و مسائلِ شرع،اللہ کی کتاب اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے حاصل کردہ اور مستنبط ہیں اور وہ قیاس و استنباط اس وقت کرتے تھے،جب انھیں صریح نص یا اشارہ و ایماء نہیں ملتا تھا۔[5] ٭ بنابریں مذکورہ بالا اکابرامت کے بیان کردہ فقہی مسائل کو اپنانا اور ان پر عمل کرنا اللہ کی شریعت ہی پر عمل کرنا ہے۔جب تک اس کی مخالفت میں کتاب اللہ یا سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضح طورپرموجود نہ ہو،اس صورت میں اللہ کی وحی [1] الأحزاب 6:33۔ [2] التوبۃ 100:9۔ [3] صحیح البخاري، الرقاق، باب ما یحذرمن زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا، حدیث: 6429، وصحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فضل الصحابۃ:، حدیث: 2533۔ [4] الحشر 10:59۔ [5] تاہم قیاس و استنباط کرتے وقت ان سے اجتہادی غلطیاں بھی ہوئی ہیں ، جن میں وہ ان شاء اللہ ماجور ہیں ۔ اور عوام کی نجات اسی میں ہے کہ وہ سلف صالحین کے مجموعی فہم کے مطابق کتاب و سنت کی اتباع کریں اور غلطیوں پر عمل نہ کریں ۔