کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 115
﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾’’بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿وَاللّٰهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ﴾’’اور اللہ غالب ہے،انتقام لینے والا۔‘‘[2] 3: یہ بات بھی تجربے سے ثابت ہے کہ انسانی نفوس جب قبیح چیزوں کے عادی ہو جائیں تو وہ انھیں اچھی لگتی ہیں۔جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فرضِ لازم چھوڑ دیا جائے تو لوگ اچھے کام چھوڑ دیتے ہیں اور برے کام کرنے لگتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برائی عام ہوتی چلی جاتی ہے ایسے موقع پر انسانی عادت بشری تقاضوں کی وجہ سے اسے برائی نہیں سمجھتی بلکہ الٹا اسے اچھائی اور عمدہ بات سمجھ لیتی ہے۔یہی حالت بصیرت کا خاتمہ اور فکری ویرانی کہلاتی ہے۔(العیاذ باللہ) اسی بنا پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکو مسلمانوں پر لازم قرار دیا ہے کہ یہ دینی فریضہ محض انسانی معاشرے ہی کی پاکیزگی اور درستی کا باعث نہیں بلکہ اقوام و ملل کے عزوشرف کا محافظ بھی ہے۔ آدابِ امر و نہی: 1: داعی یہ بخوبی جانتا ہو کہ جس بات کا وہ حکم دے رہا ہے،وہ فی الواقع شریعت میں معروف اور نیکی ہے اوراس پر عمل متروک ہوچکا ہے،اسی طرح جس برائی سے وہ منع کرتا ہے اور جسے مٹانے کی وہ کوشش کر رہا ہے اس کی حقیقت بھی سمجھتا ہو اوراُسے معلوم ہو کہ اس کا ارتکاب بھی ہورہا ہے،نیز وہ کام فی الواقع شریعت میں گناہ اور حرام قرار دیا گیا ہو۔ 2: اصلاح کرنے والا خود اس نیکی کا عامل ہو اور جس بات سے منع کر رہا ہے،یہ خود اس کے قریب بھی نہ پھٹکے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴿٢﴾كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾ ’’اے ایمان والو!وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضی کا باعث ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں ہو۔‘‘[3] فرمانِ الٰہی ہے:﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو،حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو۔کیا تم سمجھتے نہیں ؟‘‘[4] 3: ایک مبلغ کو اچھے اخلاق کا مالک ہونا چاہیے،اُسے اچھی باتوں کا حکم نرمی سے دینا چاہیے اور بُری باتوں سے حکمت کے ساتھ روکنا چاہیے اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچے تو اسے دل میں محسوس کرے نہ غصے [1] البروج 12:85۔ [2] اٰل عمرٰن 4:3۔ [3] الصف 3,2:61۔ [4] البقرۃ 44:2۔