کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 106
اسی طرح تین غار والوں پر چٹان گر گئی اور نکلنے کا راستہ بند ہو گیا۔انھوں نے اپنے صالح اعمال کے توسل سے دعا کی۔اللہ رب العزت نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور انھیں نجات عطا کی۔یہ ان صالحین کی کرامت تھی۔[1] اور اسی طرح راہب اور لڑکے کا واقعہ ہے جس میں موذی جانور نے راستہ بند کیا ہوا تھا۔لڑکے نے اسے پتھر مارا تو وہ موذی جانور مر گیا اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔یہ اس لڑکے کی کرامت تھی،پھر بادشاہِ وقت نے اس لڑکے کو مختلف طریقوں سے قتل کرنا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکا۔یہ بھی اس صالح اور نیک لڑکے کی کرامت تھی۔[2] 3: ہزاروں علماء کے مشاہدات بھی کراماتِ اولیاء پر شاہد ہیں۔معدودے چند یہ ہیں: ٭ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو فرشتے سلام کہتے تھے۔[3] ٭ سلمان فارسی اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہما کھانا کھاتے تو کھانے یا برتن سے تسبیح کی آواز آتی تھی۔[4] ٭ خبیب رضی اللہ عنہ مکہ میں مشرکین کے ہاں قیدی تھے۔ان دنوں مکہ میں انگور نہیں تھے مگر خبیب رضی اللہ عنہ انگور کھاتے دیکھے گئے۔[5] ٭ براء بن مالک رضی اللہ عنہ اگر کسی معاملے میں قسم کھا لیتے تو اللہ جل جلالہ اسے پورا فرما دیتا تھا۔[6] چنانچہ جنگ تستر کے دن انھوں نے قسم کھائی کہ اللہ مسلمانوں کو مشرکین پر غلبہ دے گا اور میں سب سے پہلے شہید ہوں گا،سو ایسا ہی ہوا۔[7] ٭ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک کہنے لگے:اے ساریہ!پہاڑ کی طرف ہو جاؤ۔ساریہ نے آواز سنی اور پہاڑ کی طرف ہو گئے۔انھیں فتح حاصل ہوئی اور دشمن شکست کھا گیا۔ساریہ واپس آئے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اطلاع دی کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آواز سن لی تھی۔[8] ٭ علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ دعا میں کہا کرتے تھے:’اَللّٰہُمَّ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا عَلِيُّ یَا عَظِیمُ!‘ اور ان کی دعا پوری ہوتی۔ایک موقع پر اپنا دستہ سپاہ لے کر سمندر میں کود گئے،لیکن ان کے گھوڑوں [1] صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار، حدیث: 3465، وصحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب قصۃ أصحاب الغار الثلاثۃ:، حدیث : 2743۔ [2] صحیح مسلم، الزہد، باب قصۃ أصحاب الأخدود:، حدیث : 3005۔ [3] أسد الغابۃ: 270/4۔ [4] [ضعیف] دلائل النبوۃ للبیھقي: 63/6، وجامع کرامات الأولیاء: 105,104/1اس کی سند منقطع ہے۔ [5] صحیح البخاري، المغازي،باب بعد باب فضل من شھد بدرًا، حدیث: 3989۔ [6] أسد الغابۃ:364/1۔ [7] جامع کرامات الأولیاء: 106/1، والمستدرک للحاکم: 292/3وصححہ الحاکم والذھبي وسندہ ضعیف۔ [8] البدایۃ و النہایۃ: 124/7۔اس کی سند ابن عجلان کے عنعنہ کی و جہ سے ضعیف ہے۔ اور اس روایت کی تمام سندیں ضعیف و مردود ہیں ۔