کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 102
کراماتِ اولیاء کے دلائل: 1: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اولیاء اور ان کی کرامات کے متعلق خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿٦٢﴾الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴿٦٣﴾لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ’’خبردار!یقینا اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(یعنی)جو ایمان لائے اور پرہیز گار(بن کر)رہے،ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے،[1] اللہ(جل شانہ)کی باتوں [1] (7. کسی بھی غیر نبی کی دعوت (عقیدہ و عمل)کی سچائی چار چیزوں میں منحصر ہے: (ا)قرآن پاک (ب)مقبول احادیث (ج)صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مجموعی فہم و عمل (د)اجماع امت ۔ اگر اس کی دعوت اور طرزِ عمل مذکورہ معیار پر پورا اترتا ہے تو اس سے ظاہر ہونے والا خلافِ عادت کام ’’کرامت‘‘ ہوگا ورنہ نہیں ۔ 8. اگر بد عقیدہ اور بدعمل ہونے کے باوجود اس سے امورِ عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں تو اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی ہیں : (ا)اللہ نے اس کی رسی دراز کردی ہے تاکہ وہ اور اس کے پیروکار زیادہ سے زیادہ عذابِ آخرت کے مستحق بنیں ۔ (ب)اس نے مختلف شرکیہ عمل کرکے جنوں اور شیاطین کا قرب حاصل کیا ہوا ہے جو اس کے ساتھ نظر نہ آنے والا تعاون کرتے اور اسے پیشگی خبریں پہنچاتے ہیں ۔ 9. الغرض معجزہ اور سچی کرامت اللہ کی غیبی مدد، طاقت اور حکم سے رونما ہوتی ہے جبکہ جھوٹی کرامتوں میں شیاطین کی ان دیکھی مدد کام کررہی ہوتی ہے، بندہ اپنی طاقت سے ایسے امورِ عجیبہ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ حالتِ نماز میں قبلہ رخ ہونے کے باوجود پیچھے کھڑے نمازیوں پر نظر رکھنا، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا مگر یہ کیفیت ہر وقت نہیں ہوتی تھی بلکہ جب اللہ چاہتا تھا ایسا ہوتا تھا اور جب نہیں چاہتا تھا، نہیں ہوتا تھا، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے جب ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘ کہا تو پیچھے سے ایک آدمی نے یہ دعا پڑھی: ’رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا:‘ تو سلام پھیرنے کے بعد آپ نے پوچھا: ’مَنِ الْمُتَکَلِّمُ؟‘ ’’دعا کس نے پڑھی تھی؟‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، باب فضل اللّٰھم ربنا لک الحمد،حدیث :799)یعنی آپ کو دعا پڑھنے والے نمازی کا علم نہیں ہوسکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا۔ اسی طرح ایک رات نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ان کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع الغرقد (مدینہ منورہ کے قبرستان)پہنچ کر دعائے مغفرت کی اور واپس آگئے۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے پہلے اپنے بستر پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں لیکن سانس چڑھی (پھولی)ہوئی تھی۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے و جہ دریافت کی، امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے ٹالنا چاہا، آپ نے فرمایا: ’’عائشہ! بتا دو ورنہ میرا اللہ مجھے بتا دے گا۔‘‘ اس پر امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے ساری بات بتا دی۔ (صحیح مسلم، الجنائز، باب مایقال عند دخول القبور والدعاء لأہلہا، حدیث : 974)اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے نکلتے وقت امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہ تھا کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدھر اور کیوں جارہے ہیں اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہ ہوا کہ عائشہ بھی میرے پیچھے آئی تھیں ؟ اس واقعہ سے یہ غلط فہمی بھی دور ہوجانی چاہیے جو کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بلحاظِ پیدائش’’نُورٌ مِّنْ نُّورِ اللّٰہِ‘‘ تھے، پھر اسی عقیدے کے نتیجے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ رات کو آپ کی موجودگی میں گمشدہ سوئی بھی نظر آجاتی تھی، چراغ جلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ استغفراللہ۔(ع،ر)