کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 712
جب کہ اہل سنت والجماعت اس مقدمہ کے امتناع کے محتاج نہیں ہیں ۔بلکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے نزدیک تمام امت کے لوگوں میں سب سے افضل ہیں ۔یہاں پر ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم رافضیوں کے لیے واضح کردیں کہ اگر یہ حق کہنا چاہیں تو اس پر کسی صحیح دلیل سے استدلال کرنا ان کے بس کا کام نہیں ۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنی ذات کے لیے بہت سارے علم کے دروازے بند کردیئے ہیں ۔ اس وجہ سے حق بیان کرنے سے عاجز آگئے ہیں ۔یہاں تک کہ ان کے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ خوارج کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایمان ثابت کرسکیں ۔ اورنہ ہی مروانیہ فرقہ اور آپ سے جنگ کر نے والوں کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت ثابت کرسکتے ہیں ۔اس لیے کہ جن دلائل سے رافضی استدلال کرے گا اسی جنس کے دلائل ان کے پاس بھی موجود ہیں ۔ اس لیے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کی جہالت اور خواہش پرستی ؛ اور لاعلمی کی وجہ سے ان کے باطل اقوال پر کتنا فساد اور تناقض لازم آتا ہے ۔ ٭٭٭