کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 711
حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس آیت میں بیان ہے کہ جو کوئی خود حق کی طرف راستہ بتانے والا ہویا پھر جسے بتائے بغیر راستہ کا پتہ ہی نہ چلتا ہو ۔ اور مفضول پر راستہ پانا اس وقت تک واجب نہیں ہے جب تک فاضل اسے راستہ نہ دیکھا دے۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ فاضل سے تعلیم حاصل کیے بغیر بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں ۔اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ مفضول فاضل سے زیادہ علم والا ہو۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے افضل انسان کی موت آجائے ‘اور یہ جو زندہ موجودہے اس نے افضل سے کچھ بھی تعلیم حاصل نہ کی ہو۔ پس مطلق طور پر حق کی طرف ہدایت دینے والاصرف اللہ تعالیٰ ہے۔اور جو راہ بتائے بغیر ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتا وہ ساری مخلوق ہے۔ مخلوق کو جب تک اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہ نوازیں اس وقت تک ہدایت نہیں پاسکتے ۔ اور اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ مخلوق کی نسبت اللہ تعالیٰ عبادت کا زیادہ حق دار ہے ؛ جیسا کہ اس آیت کے سیاق میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿قُلْ ہَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ قُلِ اللّٰہُ یَہْدِیْ لِلْحَقِّ اَفَمَنْ یَّہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَہِدِّیْٓ اِلَّآ اَنْ یُّہْدٰی ﴾ [یونس ۳۵] ’’آپ فرما دیجیے: تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ حق کا راستہ بتاتا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتاتا ہے تو پھر آیا جو شخص حق کا راستہ بتاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو بغیر بتائے خود ہی راستہ نہ سوجھے ۔‘‘ ان آیات کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان سے شروع کی تھی: ﴿قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ﴾ [یونس ۳۱] ’’آپ فرمادیجیے: وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے ۔‘‘ اوریہ بیان آگے تک جاری رہا ؛ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: ﴿قُلْ ہَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ ﴾۔ [یونس ۳۵] ’’فرمادیجیے: تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ حق کا راستہ بتاتا ہے؟ ‘‘ مزیدیہ کہ اکثر علماء کے نزدیک افضل کو حاکم تعینات کرنا اس وقت واجب ہوتا ہے جب مفضول کو والی بنانے میں کوئی راجح مصلحت نہ پائی جاتی ہو؛ اور افضل کی ولایت میں کوئی خرابی نہ ہو۔ان مباحث پر وہ لوگ گفت و شنید کرتے ہیں جن کا خیال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماسے افضل ہیں ۔ شیعہ کا فرقہ زیدیہ ؛ بعض معتزلہ ؛ اور متوقفہ یہی نظریہ رکھتے ہیں ۔