کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 709
ضرورت کے تحت اس امام معصوم کے وجود پر استدلال کا منفی ہونا جانتے ہیں ؛ اس لیے کہ ضروریات کا استدلال سے تعارض نہیں ہوسکتا۔
ساتویں وجہ :....یہ مسئلہ ہرزمانے کی طرح اس زمانے میں بھی ایسے ہی باقی ہے ۔ اس زمانے میں بھی کسی کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ جان سکے کہ امام معصوم نے کیا کہا ہے [اورکس چیز کا حکم دیا ؛یا منع کیا ہے]۔ چہ جائے کہ اس امام سے کوئی فائدہ حاصل ہو ؛ یا اس سے کسی خرابی کا خاتمہ ہوا ہو۔ پس اس وجہ سے جو کچھ رافضی مصنف نے ذکر کیا ہے وہ سب باطل ہے۔
آٹھویں وجہ :....بیشک اللہ سبحانہ و تعالیٰ امام معصوم کے نصب کرنے پر قادر ہے ۔مگرہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ اس امام کے نصب کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ یہ جو عموم کی نفی کی گئی ہے اس کے لیے دلیل کا ہونا ضروری ہے ؛ اس کے لیے خرابی کے علم کا نہ ہونا کافی نہیں ہے۔اس لیے کہ کسی چیز کا علم نہ ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ چیز ہی معدوم ہے۔ اس میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ غیر نبی کی اطاعت اور تصدیق کو نبی کی اطاعت او راس کی تصدیق کے مساوی کیا جارہا ہے۔جو کوئی دوسرا نبی کے ساتھ ہر بات کی اطاعت میں او رہر چیز کی تصدیق میں اور ان سے ہر غلطی کی نفی میں برابر کا شریک ہو ؛ تو پھر ہم پوچھتے ہیں کہ نبی کے وہ کون سے انفرادی خصائص باقی رہ گئے جن کی وجہ سے وہ نبی ہوگئے؟ اور یہ نبی نہ ہوسکا؟
اگر یہ کہا جائے کہ : نزول وحی کی خصوصیت باقی رہتی ہے ۔
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : اگر یہ[اصلاح کا] مقصود نزول وحی سے حاصل ہوگیا تھا؛ تو الحمد للہ اس تھکاوٹ اور سختی سے نجات مل گئی جو انبیائے کرام علیہم السلام برداشت کرتے ہیں ‘ اور وہ اس مقصود میں شریک ہوگیا۔
مزید برآں عصمت حق تعالیٰ کی طرف سے اسے الہام کرنے سے حاصل ہوتی ہے ؛ اسی کو وحی کہتے ہیں ۔
نیز یہ کہ یہ امام یا تو انہی چیزوں کی خبر دے گا جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ؛ اوروہی حکم دے گا جو نبی نے دیا ہے ۔اور اسی چیز سے منع کرے گا جس سے نبی نے منع کیا ہے۔ یا ان سے کچھ زیادہ احکام جاری کرے گا۔
پہلی صورت میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اورنہ ہی اس میں کوئی فائدہ ہے ۔ اس لیے کہ یہ باتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے اور آپ کے حکم دینے سے معلوم ہوگئی ہیں ۔ اور آپ ان احکام کے بتانے میں معصوم ہیں [ یہی نبوت ہے] اور آپ خودنبی ہیں ؛ کسی دوسرے کی طرف سے کوئی پیغام نہیں پہنچاتے رہے ۔
اگر شیعہ یہ کہیں کہ : امام معصوم کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو محفوظ رکھنا ہے ۔
تو اس سے پوچھا جائے گا: کیا وہ شریعت کو اپنی ذات کے لیے محفوظ کرے گا یا اہل ایمان کے لیے ؟ اگر وہ شریعت کو اپنی ذات کے لیے محفوظ کرے گا تو پھر لوگوں کو ایسی شریعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر مقصد یہ ہے کہ وہ شریعت کو لوگوں کے لیے محفوظ کرے گا [تو پھر سوال یہ ہے کہ ]وہ شریعت لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟کیا وہ خبر متواتر سے لوگوں تک