کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 708
بشریت کو معصوم بنادے اور بشریت میں سے ہر ایک آدمی کو نبی بنادے۔اور اس طرح کے دیگر امور بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہیں ۔
اگر اس سے تمہاری مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ وہ حکمت حاصل ہوتی ہے جو اس کے وجود کے منافی ہے ؛ یعنی اس حکمت کا وجود اس کے عدم کے ساتھ ہوتا ہے ۔تو اس میں دو الٹ چیزوں کا اجتماع [اکٹھا ہونا] لازم آتا ہے ۔ آپ نے یہ کہاں سے سیکھا ہے کہ :’’ حکمت کی تمام اقسام اس کے وجود کے منافی ہیں ۔‘‘
اگر لوگوں کے لیے امام نہ ہو ؛ اور اطاعت گزاروں کے لیے اتنے بڑے اجر کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو؛ تو پھر اس صورت میں اطاعت کی معرفت اور اس پر عمل لوگوں پر بہت شاق گزرتا۔اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہوتا۔اور یہ ثواب امام معصوم کے وجود کی صورت میں فوت ہوجاتا ہے ۔
ایسے ہی لوگوں کا شریعت کی حفاظت کرنا ؛ دین کی سمجھ اور سوجھ بوجھ حاصل کرنا؛ اور دین کی معرفت کے لیے ان کا اجتہاد کرنا امام معصوم کے وجود کی صورت میں ختم ہوجاتا اور یہ حکمتیں اور مصلحتیں بھی ختم ہوجاتیں ۔
ایسے ہی امام معصوم کے وجودکو تسلیم کرنے کی صورت میں غیر نبی کو نبی کے برابر قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقارب و خواص پر سب سے بڑا شبہ ہوسکتا ہے ۔ اس لیے کہ جب یہ واجب ہے کہ امام کے ہر ایک قول پر ایمان لایا جائے؛ جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک فرمان پر ایمان لانا واجب ہے ؛ تو پھر اس میں نبوت کی کوئی خصوصیت باقی نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی ان تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو دیا ہے ؛ ہم اس پر ایمان رکھیں ۔ اگر کوئی اور انسان بھی معصوم ہونے میں ان انبیاء کرام علیہم السلام کے برابر ہو تو پھر اس کے بھی ہر ایک قول پر ایمان لانا واجب ہوجائے ؛ اس طرح نبی اور غیر نبی کے درمیان فرق ختم ہوجائے گا۔
چھٹی وجہ :....شیعہ سے پوچھاجائے کہ : وہ معصوم جس کی ضرورت کا داعیہ موجود ہے ؛ کیا وہ امام مصلحتوں کے حصول اور مفاسد کے ختم کرنے پر قادر ہے ؟ یا پھر وہ ان امور کو بجالانے سے عاجز ہے ؟اس کا عاجز ہونا ممنوع ہے۔ اس لیے کہ عاجز سے نہ تو کوئی مصلحت حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی فساد کا ازالہ ہوسکتا ہے ۔ بلکہ قادر ہونا اس کے لیے شرط ہے۔ اس لیے کہ معصوم ہونے کا فائدہ یہی ہے کہ اصلاح کا پہلو او رعنصر موجود ہو۔ لیکن قادر ہونے کے بغیر داعی کا ہونا حصول مطلوب کو واجب نہیں کرتا ۔
اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ : ’’امام معصوم اس پر قادر ہے ۔‘‘
تو اس سے کہا جائے گا کہ : یہ بات نہیں پائی جاتی۔ اگر یہ بارہ امام اس امر[فساد کے خاتمہ؛ اور اصلاح] پر قادر تھے؛ اور انہوں نے پھر بھی ایسا نہیں کیا ؛ تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ نافرمان اور گنہگار تھے۔ اور اگر اس پر قدرت نہیں رکھتے تھے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ عاجز تھے۔ ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات قطعی طور پر لازم ہے۔ یا پھر دونوں ہی باتیں لازم ہیں کہ ائمہ نہ ہی معصوم ہیں ؛ اور نہ ہی قدرت رکھتے ہیں ‘بلکہ عاجز بھی ہیں ۔ معاملہ جب ایسے ہی ہے تو