کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 707
اور نہ ہی برائی کو چھوڑ کر محض نیکی کاارادہ پیدا کرتا ہے۔
اگر شیعہ کہیں کہ ہماری مراد دوسرا نکتہ ہے ۔ تو پھر اس معصوم کو نیکی کا کام کرنے پر اور برائی کے ترک کرنے پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ تو اس صورت میں وہ تمام لوگ جو نیکی کاکام کرنے پر اور برائی کے ترک کرنے پر اجر وثواب سے نوازے جائیں گے وہ اس امام معصوم کی نسبت بہتر ٹھہرے ۔ [کہ اسے عمل کے باوجود اجر نہیں مل رہا؛ لیکن لوگ عمل کرکے اجر کمارہے ہیں ]۔
تو پھر وہ امام معصوم اہل ثواب لوگوں سے افضل کیونکر ہوسکتا ہے جس کے پاس کوئی ثواب ہی نہ ہو۔؟
[اب سوال یہ ہے کہ وہ معصوم کو پیدا کرنے پر کس طرح قادر ہے؟ یہ بات پہلے گزر چکی ہے] اس سے شیعہ مذہب کا تناقض بھی کھل کر سامنے آیا۔ ایک طرف ان کا یہ دعویٰ ہے کہ معصوم کو پیدا کرنا اﷲتعالیٰ پر واجب ہے۔ دوسری جانب ان کا قول ہے کہ اﷲتعالیٰ اپنے اختیار سے کسی کو اس طرح معصوم نہیں بنا سکتا کہ اسے طاعات و عبادات کا اجر دیاجائے اور معاصی کی سزا دی جائے۔[1]
پانچویں وجہ :....شیعہ سے پوچھا جائے گا:تمہارا یہ قول مجمل ہے کہ :’’ اللہ تعالیٰ امام معصوم کے نصب کرنے پر قادر ہے ۔‘‘
بیشک یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ : ’’ اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اس جسم کو کالا اور سفید ؛ متحرک اور ساکن؛ زندہ اور مردہ بنادے؛یہ صحیح ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سفید بنادے ؛ وہ چاہے تو کالا بنادے۔وہ چاہے تو اسے زندگی دے دے اور چاہے تو اسے مار دے لیکن اس سے مراد یہ نہیں ہوسکتی کہ ایک ہی حالت میں کالا اور سفید بنا دے ؛ اس لیے کی دو الٹ چیزوں کا جمع ہونے بذات خودممنوع ہے۔ جو کوئی چیز نہ ہو ؛ اسے آپ چیز نہیں کہہ سکتے ۔ اس پر لوگوں کا اتفاق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں داخل نہیں :
﴿وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ﴾ [البقرۃ ۲۸۴]
’’اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے ۔‘‘
بات جب ایسے ہی ہے ؛ توپھر تمہارایہ عقیدہ کہ :’’ اللہ تعالیٰ امام معصوم کے نصب کرنے پر قادر ہے ‘‘اگر اس سے تمہاری مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ امام مقرر کرے ‘ اور نیکی کے کام بجالانے اور برائی ترک کرنے کا الہام کرے ؛تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے؛جیسا کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ امام کی طرح تمام
[1] ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا معصوم تحصیل مصالح اور ازالہ مفاسد پر قادر ہے یا نہیں ؟ نیز یہ کہ آیا معصوم عاجز ہونے کی صورت میں بھی معصوم رہے گا؟ ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے کہ بصورت عجز بھی وہ معصوم ہی رہے گا، کیوں کہ عاجز سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ قدرت کا ہونا اس میں شرط ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ تحصیل مصالح پر قادر ہے تو یہ بات اس سے ظاہر نہیں ہوئی ،لہٰذا یا وہ معصوم نہیں بلکہ عاصی ہو گا اور یا عاجز ہو گا۔