کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 705
مقدمہ ہی باطل ہے ؛ اور اس کے استدلال کی خرابی بھی صاف ظاہر ہے۔اس لیے کہ اس کے بیان کی بنیاد اجماع سے حجت پکڑنے پر ہے ۔[ہم بیان کرچکے ہیں کہ ] اجماع اگر معصوم ہے تو عصمت علی رضی اللہ عنہ کی حاجت نہیں ۔ اور اگراجماع معصوم نہیں تو عصمت علی رضی اللہ عنہ پر اس سے استدلال کرنا باطل ہے۔ ہر دو صورتوں میں شیعہ کی دلیل باطل ٹھہرتی ہے۔ بڑی عجیب بات تو یہ ہے کہ رافضی جن چیزوں سے اپنے اصول دین ثابت کرتے ہیں ‘ انہیں وہ اجماع اور نصوص کا نام دیتے ہیں ۔حالانکہ پوری امت میں نصوص اور اجماع کی معرفت اور ان سے طریقہ استدلال سے رافضیوں سے بڑھ کر جاہل کوئی دوسرا نہیں ۔ بخلاف اہل سنت و الجماعت ؛ اس لیے کہ سنت نصوص کو متضمن ہے ؛ اور جماعت اجماع کو متضمن ہے ؛ پس اہل سنت والجماعت نصوص اور اجماع کے پیروکار ہیں ۔ اب ہم رافضی کے اس بیان کے فاسد ہونے پر بات کرتے ہیں ؛ اس بیان کے خراب و فاسد ہونے کی کئی وجوہات ہیں : پہلی وجہ:....ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ امام نصب کرنے کی کسی حاجت کی وجہ موجود ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امت کی عصمت انہیں امام کی عصمت سے بے نیاز کردیتی ہے۔علماء کرام نے اس امت کی عصمت کی حکمتوں میں یہ ذکر کیا ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں : ’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں جب لوگ دین میں کوئی تبدیلی کردیتے تو اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرماتے ؛ تاکہ وہ ان کے لیے حق بات کو واضح کردیں ۔ چونکہ اس امت کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ؛ اس وجہ سے ان کی عصمت نبوت کے قائم مقام ہے۔ کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دین میں سے کوئی چیز بدل دے ۔ جب بھی کوئی ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ کسی ایسے انسان کوکھڑا کردیں گے جو اس میں تبدیل کردہ غلطی کو واضح کردے گا۔ پس ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ پوری امت گمراہی پر جمع ہوجائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ’’ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم کو قائم کرتی رہے گی جو ان کو رسوا کرنا چاہے گا یا مخالفت کرے گا تو ان کا کچھ بھی نقصان نہ کر سکے گا اور وہ لوگوں پر غالب رہیں گے؛ حتی کہ قیامت قائم ہو جائے۔‘‘[1] اور سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے نبی کی زبان پر اس بات سے بچالیا ہے کہ تم گمراہی پر جمع ہوجاؤ ۔‘‘[2] ان کے علاوہ بھی کئی ایک دلائل ہیں جن کی روشنی اجماع کا درست ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ دوسری وجہ:....اگر شیعہ یہ کہیں کہ حاجت سے ہماری مراد یہ ہے کہ معصوم کے موجود ہونے کی صورت میں امت کی
[1] صحیح مسلم : ح۴۵۸ [2] أبو داؤد۴؍۱۲۹؛ ِکتاب الفِتنِ والملاحِمِ باب ذکِرِ الفِتنِ ودلائِلِہا، وذکر الألبانِی الحدِیث فِی ضعِیفِ الجامِعِ الصغِیرِ وزِیادتِہِ 2؍67 وقال: ضعِیف۔