کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 703
مراد کلی قصور جو تمام جزئیات کو شامل ہے ؟ اگر تم کہوگے کہ میری مراد پہلی ہے ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہر امام کا کلام اسی منزلت پر ہوتا ہے۔ ہر امیر کا طریق کار یہی ہوتا ہے۔ امیر جب عوام الناس سے مخاطب ہوتا ہے تو عوامی طرز تخاطب اختیار کرتا ہے۔جو کہ افراد اور افعال کو شامل ہوتا ہے؛ اور اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ فاعل کے ہر فعل کو ہر وقت میں معین کردے۔پس اس کے لیے صرف خطاب عام اور کلی کا ہوناہی ممکن ہے۔ جہاں تک خطاب عام کلی کا تعلق ہے اور خطاب عام کلی رسول کے لیے بھی ممکن ہے۔ اگر روافض کہیں کہ نصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قواعد کلیہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ تو ہم کہیں گے کہ یہ ممنوع ہے۔اور اگر نصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تمہارا نظریہ مان لیاجائے ؛ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے کامل و اکمل ہیں ۔تو پھریہ بھی یہ مان لینا پڑے گا کہ امام کی نصوص کامل و کلی نہیں ہوسکتیں ۔پس اس صورت میں شیعہ کو خطاب امام میں دو میں سے ایک چیز کی ضرورت ہوگی: ۱۔عموم الفاظ کا ثبوت۔ ۲۔یا پھر عموم معانی کا ثبوت۔ ان میں سے جو بات بھی امام کے لیے ثابت کی جائے گی ؛ وہ خطاب ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خود بخود ثابت ہوگی۔ اندریں صورت ہمیں بیان احکام کے لیے کسی امام کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ گیارھویں وجہ:....اس سے کہا جائے گا کہ :اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ﴾ [ابراہیم۴] ’’ ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر ے ۔‘‘ اوراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ﴾ [النساء ۱۶۵] ’’تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ ﴾ [النور ۵۴] ’’ رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔ ‘‘ ان کے علاوہ بھی اس طرح کی کئی آیات ہیں ۔ توہم شیعہ سے پوچھتے ہیں : کیا مخلوق پر رسول کے اس بیان کے بعد حجت قائم ہوگئی ہے یا نہیں ؟ اگر حجت قائم نہیں ہوئی تو پھر یہ آیات اور ان کے معانی باطل ٹھہرے۔ اورر اگر حجت قائم ہوگئی ہے تو پھر اس کے بعد کسی دوسرے متعین شخص کی حاجت باقی نہ رہی جو لوگوں کے لیے مزید کوئی چیز بیان کرے۔ چہ جائے کہ وہ تبلیغ دین کا محافظ بھی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ