کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 601
٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ:’’مصیبت اس انسان کے لیے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد لکھنے میں حائل ہوا۔‘‘ یہ صحیح احادیث میں ثابت ہے۔ بلاشبہ عہد نامہ کا نہ لکھنا اس انسان کے لیے باعث مصیبت ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شک کرتا ہے ؛ یااس پر یہ امر مشتبہ ہے اگر آپ عہد نامہ لکھوا دیتے تو شک کا ازالہ ہو جاتا۔
٭ سیّدناابن عباس رضی اللہ عنہمانے یہ بات اس وقت کہنا شروع کی جب خوارج اور روافض نے پر و پرزے نکالنے شروع کئے۔
وگرنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماکتاب اللہ کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔اور اگر کتاب اللہ میں کوئی چیز نہ پاتے تو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق فتوی دیا کرتے۔ اور اگر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی کوئی چیز نہ ملتی تو پھر آپ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکے فتوی کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔ یہ حدیث ابن عیینہ کی سند سے عبداللہ بن ابی یزید سے ثابت ہے ؛ انہوں نے اسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے نقل کیا ہے۔
٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماکے احوال کی معرفت رکھنے والا جانتا ہے کہ آپ حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر افضلیت اور ترجیح دیا کرتے تھے۔
٭ پھر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد نامہ لکھوانے کا ارادہ اپنی مرضی سے ترک کیا ‘ اس میں کوئی اختلاف نہیں تھا اگرآپ اس عہد نامہ کے لکھوانے پر اصرار کرتے تو کسی کے بس میں نہیں تھا کہ آپ کو اس سے منع کرتا ۔
٭ اس قسم کے؛بلکہ ان سے بڑھ کر تنازعات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیش آئے ہیں ۔ اہل قباء کے مابین پیش آنے والا معاملہ اس سے بڑھ کر تھا۔ جس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں :
﴿وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا﴾ [الحجرات ۹]
’’اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو ۔‘‘
لیکن روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ انہوں نے اس لڑائی میں کھجور کی شاخوں اور جوتوں کا استعمال کیا تھا۔[1]
[1] صحیح بخاری:ج1:ح 2579۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلتے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گدھے پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اور مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدل چل رہے تھے وہ زمین شور تھی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے دور رہیے اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بونے مجھے تکلیف پہنچائی ایک انصاری نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تجھ سے زیادہ پاکیزہ ہے عبداللہ کی قوم کا ایک آدمی بہت غضبناک ہوا اور ان کو گالی دی پھر ان دونوں کے ساتھ اپنے اپنے دوست کی حمایت میں مشتعل ہوگئے ڈنڈے ہاتھوں اور جوتیوں کی مار ہونے لگی مجھے یہ خبر ملی کہ آیت﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ﴾ [ الحجرات : 9]’’اگر مومنوں کی دو جماعتیں جھگڑا کریں تو ان کے درمیان صلح کرا دو‘‘ اسی موقعہ پر نازل ہوئی۔
والحدِیث أیضاً فِی مسلِم 3؍1424؛ ِکتابِ الجِہادِ والسِیرِ، باب فِی دعائِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہِ وسلم وصبرِہِ علی أذی المنافِقِین ، المسند3؍157؛ وانظر تفسیر ابن کثیر 7؍353 ۔