کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 600
کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘ [صحیح بخاری: ۵۶۶۶)]
پھر جب جمعرات کا دن آیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ ایک تحریر لکھوا دیں ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بخار کی حالت میں کچھ کہہ رہے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ نہ چل سکا کہ آپ یہ حکم شدت مرض کی وجہ سے دے رہے ہیں یا حسب معمول ( بقائمی ہوش و حواس) صحیح حالت میں یہ بات فرما رہے ہیں ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خوف محسوس ہورہا تھا کہ کہیں آپ بیماری کی حالت میں ایسا نہ فرمارہے ہوں ۔جیسا کہ مریض کے ساتھ حالت مرض میں ہوتا ہے ؛ یا آپ کا عام عرف کے مطابق کلام تھا جس کی اطاعت کرنا واجب تھی؛ یہ بات آپ پر ایسے ہی مخفی رہی تھی جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت مخفی رہی تھی؛بلکہ آپ نے اس کا انکار کردیا تھا۔یہاں تک کہ دلیل و برہان سے آپ کی وفات ثابت ہو گئی۔‘‘
پھر بعض لوگ کہہ رہے تھے : قلم کاغذ لیکر آؤ ؛ اور بعض کہہ رہے تھے : ان کے لانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ عہد نامہ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کا ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوچکا تھا]۔ جب آپ نے دیکھا کہ اب لوگ شک میں مبتلا ہو گئے ہیں توآپ نے سوچا کہ اب یہ عہد نامہ لکھنے سے بھی شک کا ازالہ نہ ہو گا۔ لہٰذا اب اس کے لکھنے کا کچھ فائدہ نہیں ۔‘‘اس لیے کہ لوگ سوچیں گے کہ کیا آپ نے بیماری کی حالت میں تبدیلی احوال کی بنا پریہ عہدنامہ لکھوایا ہے یا پھر صحیح سلامتی کی حالت میں ۔‘‘ پس یہ تنازعہ اب ختم نہیں ہوگا۔‘‘اس لیے آپ نے اپنا ارادہ ترک کردیا ۔
٭ یہ عہد نامہ لکھوانا ان امور میں سے نہیں تھا جو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر واجب کیا ہو کہ اسے لوگوں کے لیے تحریر کروایا جائے یا پھر اس وقت میں اس کی تبلیغ کی جائے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو پھر آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کوکبھی بھی تعمیل کئے بغیر نہ چھوڑتے ۔لیکن آپ مصلحت کی بنا پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں نزاع ختم کرنے کے لیے ایسا کرنا چاہتے تھے۔ مگر جب آپ نے دیکھا کہ اب تویہ اختلاف ہوکر ہی رہے گا ؛ [تو آپ نے اپنا ارادہ ترک کردیا ]۔
٭ اس سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگی تھیں ؛ اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں عطا فرمادیں ‘ اور ایک سے منع کر دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ : آپ کی امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز آپ کو دے دی۔ پھرآپ نے دعا مانگی کہ: ان کے اپنوں کے علاوہ ان پر کوئی دشمن بھی مسلط نہ کرے۔‘‘یہ بھی آپ کو مل گیا ۔ اوراللہ عزوجل سے سوال کیا کہ ان کی آپس میں ایک دوسرے سے لڑائی نہ ہو؛ تو اس سوال سے منع کردیا گیا۔‘‘[1]
[1] صحیح مسلم:ح۲۷۶۱:میں اس کی تفصیل ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بنو معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے تو اس میں تشریف لے گئے اور اس میں دو رکعتیں ادا کیں ؛اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے لمبی دعا مانگی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں پس دو چیزیں مجھ کو عطا کردیں گئیں اور ایک چیز سے مجھے روک دیا میں نے اپنے رب سے مانگا کہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کرے پس یہ مجھے عطا کردیا گیا اور میں نے اللہ عزوجل سے مانگا کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کر پس اللہ عزوجل نے یہ چیز بھی مجھے عطا کر دی اور میں نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ ان کی آپس میں ایک دوسرے سے لڑائی نہ ہو تو مجھے اس سوال سے منع کردیا گیا۔ [دراوی؛ کشمیری]