کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 599
دے دو۔(میں نے حکم کی تعمیل کی) سب سے پہلے مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گر پڑا۔ کہنے لگے اے ابوہریرہ ! لوٹ جا۔ میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا ۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ ایسا نہ کریں ۔۔۔۔ ان کو عمل کرنے دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اچھا تو)رہنے دو۔‘‘[1] ٭ تیسری وجہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں جو واقعہ پیش آیا وہ انتہائی آسان ترین اور واضح تھا۔صحیح بخاری میں ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اپنے والد اور بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک عہد نامہ لکھوا دوں ؛ تاکہ میری بعد لوگ آپ کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہ کریں ۔‘‘پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا:’’اﷲ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی
[1] صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 150۔یہ پوری حدیث اس طرح ہے: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہمابھی شامل تھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دیر تک تشریف نہ لائے ہم ڈر گئے کہ کہیں (اللہ نہ کرے) آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ اس لیے ہم گھبرا کر کھڑے ہوگئے سب سے پہلے مجھے گھبراہٹ ہوئی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ بنی نجار کے باغ تک پہنچ گیا ہر چند باغ کے چاروں طرف گھوما مگر اندر جانے کا کوئی دروازہ نہ ملا۔ اتفاقا ایک نالہ دکھائی دیا جو بیرونی کنوئیں سے باغ کے اندر جارہا تھا میں اسی نالہ میں سمٹ کر گھر کے اندر داخل ہوا اور آپ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ! میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا حال ہے؟ آپ ہمارے سامنے تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر تشریف لے گئے اور دیر ہوگئی تو ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ گزرا ہو اس لیے ہم گھبرا گئے۔ سب سے پہلے مجھے ہی گھبراہٹ ہوئی (تلاش کرتے کرتے کرتے) اس باغ تک پہنچ گیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر (نالہ کے راستہ سے) اندر آگیا اور لوگ میرے پیچھے ہیں ۔ آپ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دے کر فرمایا ابوہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور نشانی کے) لے جاؤ اور جو شخص باغ کے باہر دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہتا ہوا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ (میں نے حکم کی تعمیل کی) سب سے پہلے مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے۔ انہوں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! یہ جوتیاں کیسی ہیں ؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں ہیں ۔ آپ نے مجھے یہ جوتیاں دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کو جنت کی بشارت دے دوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گر پڑا۔ کہنے لگے اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ! لوٹ جا۔ میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو پہنچادیا۔ انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گر پڑا اور کہنے لگے لوٹ جا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمرتم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان!کیا آپ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جوتیاں دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دینا۔ فرمایا ہاں !حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ ایسا نہ کریں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ لوگ (عمل کرنا چھوڑ دیں گے)اور اسی فرمان پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔ ان کو عمل کرنے دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اچھا تو) رہنے دو۔