کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 503
گیا۔بلاد مصر میں عبد اللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ [1]کو حاکم مقرر کیا جہاں اس نے بہت مظالم ڈھائے۔ لوگوں نے جب اس کی
[1] (۶؍۱۳۴)۔ وہ لڑکا نامی گرامی مجاہد و فاتح سعید بن عاص رضی اللہ عنہ تھا۔ جس کے بارے میں رافضی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ہے کہ انھوں نے اسے کوفہ کا والی مقرر کیا۔ اگر قرآن کی عربیت کی تصحیح شیعہ کے نزدیک قابل فخر کارنامہ نہیں ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا سعید رضی اللہ عنہ کو اکرم العرب قرار دینا یقیناً دین و دنیا میں باعث فخر ہے۔ سیدنا سعید رضی اللہ عنہ میں صرف ایک ہی عیب پایا گیا ہے اور وہ یہ کہ آپ نے طبرستان کو فتح کیا اور کبار صحابہ نے اس کے قائد کی حیثیت سے جرجان پر حملہ کرکے اہل ایران کو مجوسیت سے نکال کر دین اسلام سے روشناس کرایا۔ سیدنا سعید کی مرویات صحیح مسلم، نسائی اور ترمذی میں موجود ہیں ۔ محدث طبرانی بطریق محمد بن قانع بن جبیر بن مطعم وہ اپنے باپ سے اور وہ داداسے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سعید بن عاص کی عیادت کرتے دیکھا۔آپ ایک کپڑے کو گرم کرکے سعید کو ٹکور کر رہے تھے۔ (الاصابۃ:۲؍۴۸) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے دادا سے متعلق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ اکرم العرب ہے، اعلام نبوت میں سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور وحی کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ سعید رضی اللہ عنہ بہت بڑے فاتح ہوں گے اور اسی طرح اکرم العرب قرار پائیں گے۔ ابن ابی خیثمہ بطریق یحییٰ بن سعید روایت کرتے ہیں کہ محمد بن عقیل بن ابی طالب رحمہ اللہ اپنے والد کے پاس آئے اور پوچھا سب لوگوں میں سے افضل کون ہے ؟فرمایا: میں اور میرا بھائی۔‘‘ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :’’سعید بن عاص رضی اللہ عنہ قریش کے نور نظر ہیں ۔‘‘سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بڑے سخی تھے۔ جب سائل کو ئی چیز مانگتا اور آپ کے پاس موجود نہ ہوتی تو اسے لکھ کر دے دیتے کہ میں فلاں چیز تجھے دے دوں گا۔ جب فوت ہوئے توان پر اسی ہزار دینار قرض تھا جو ان کے بیٹے عمرو نے ادا کیا۔ صالح بن کیسان روایت کرتے ہیں کہ سعید رضی اللہ عنہ بڑے باوقار اور متحمل مزاج تھے، جب کسی چیز کو پسند یا نا پسند کرتے تو اس کا اظہار نہیں کیا کرتے تھے۔ ان کا قول ہے:’’ دل کی حالت بدلتی رہتی ہے، یہ موزوں نہیں کہ آدمی ایک چیز کی آج تعریف کرے اور کل اسی کی مذمت کرنے لگے۔‘‘ یہ ہیں سیدنا سعید بن عاص اموی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب جن کے بارے میں رافضی امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کو مطعون کرتا ہے کہ انھوں نے سعید کو والی کوفہ مقرر کیا۔  عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ یہ سیدنا عثمان کے رضاعی بھائی تھے۔ فتح مکہ کے روز سیدنا عثمان نے جب ان کے لیے پناہ طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پناہ دے دی۔ یہ مخلص مسلمان اور عظیم مجاہد و فاتح تھے۔ جب ملک مصر دین اسلام کے حلقہ میں داخل ہوا تو ابن ابی سرح ان مجاہدین صحابہ کے سرخیل تھے۔ جن کو مصر فتح کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جہاد مصر میں یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے لشکر کے دائیں بازو میں تھے اور بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ۔ ابن سعد نے طبقات میں ابن ابی سرح کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے جنھوں نے مصر میں بودوباش اختیار کر لی تھی۔ حافظ ابن حجر نے الاصابہ (۲؍۳۱۷) میں البرقی کی تاریخ سے بروایت ابی صالح کاتب لیث بن سعد امام مصر سیدنا لیث بن سعد سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’خلافت فاروقی میں ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ علاقہ الصعید کے حاکم تھے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو آپ نے مصر کا سب علاقہ ان کو تفویض کردیا۔ مصر کے عظیم امام و فاضل سیدنا لیث بن سعد کے مندرجہ بالا بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ روافض نے ابن ابی سرح پر کس قدر جھوٹ باندھا ہے۔۲۵ھ میں ابن ابی سرح پورے مصر کے حاکم اعلیٰ تھے۔ ۲۷ھ میں پورا افریقہ فتح ہو گیا۔ یہ عظیم ترین فتح تھی جو مسلمانوں کو حاصل ہوئی، مال غنیمت کی یہ فراوانی تھی کہ ایک سوار کے حصہ میں تین ہزار دینار آئے۔ چاروں عبادلہ( عبد اﷲ بن عمر، عبد اﷲ بن زبیر، عبد اﷲ بن عباس اور عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم ) جلالت قدر کے باوصف ابن ابی سرح کے زیر قیادت تھے۔ شمالی افریقہ فتح ہونے کے بعد بھی ابن ابی سرح نے ۳۱ھ تک جہاد کا سلسلہ جاری رکھا۔ ۳۴ھ میں ذات السواری پر چڑھائی کی۔ اسی دوران باغیوں نے سیدنا عثمان کے خلاف خروج کیا۔ ابن ابی سرح نے سیدنا عثمان کو لکھ کر امداد کی پیشکش کی اور براستہ عریش و عقبہ مدینہ پہنچنے کی اجازت چاہی۔ سائب بن ہشام بن عمیر کو حاکم مقرر کیا۔ ابھی مدینہ نہیں پہنچ سکے تھے کہ ابن ابی سرح کو سیدنا عثمان کی شہادت کی خبر پہنچی اور آپ مصر لوٹ آئے۔ مصر پر ابن ابی حذیفہ نے (