کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 502
پیداکرنا چاہتا ہو تو اسے قتل کردو؛ خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔‘‘ [مسلم ۳؍۱۴۷۹؛ وابو داؤد ۴؍۳۳۴]۔ پھر اس سے مراد یہی ہوسکتی ہے کہ جو انسان بیعت اورمشورہ کے بغیر مسلمانوں سے علیحدہ ہوکر بیٹھ جائے ؛ اس حدیث کی روشنی میں اس کے قتل کا حکم دیا ہوگا۔جب کہ کسی انسان کے بیعت سے پیچھے رہنے کی وجہ سے جب فتنہ کا اندیشہ نہ ہو ایسے انسان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی ایسا حکم دیاہے۔ ایسے ہی رافضی مصنف نے جو کہا ہے کہ: آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا اشارہ دیا تھا؛ اور حضرت علی کوولایت سے پیچھے رکھنے کا اشارہ دیا ۔یہ تمام باتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام ہیں ۔ ایسے ہی رافضی کا قول :’’ [آ پ کو پتہ تھا کہ ] آپ کو خلیفہ نہیں بنایا جائے گا۔‘‘ اس میں مستقبل کے متعلق ایک خبر ہے جو کچھ ہونے والا ہے۔ اس میں کہیں بھی آپ کوولایت سے روکنے کی بات نہیں ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ یہ الفاظ اس سیاق کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی نہیں ہے۔بلکہ یہ آپ پر جھوٹا الزام ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ فصل:....حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر الزامات [1] [اعتراضات]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ جہاں تک عثمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے اس نے نا اہل لوگوں کو بڑے بڑے منصب عطا کیے تھے۔ ان میں سے بعض خائن و فاسق بھی تھے۔ اپنے اقارب کو ولایات عطا کیں ۔ اورکئی بار کے عتاب کے باوجود اس سے باز نہ رہے۔ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا ؛وہ ایک شراب نوش نکلا اور اس نے نشہ کی حالت میں نماز پڑھائی۔سعید بن عاص رضی اللہ عنہ [2] کو کوفہ کا والی مقرر کیا اس نے وہاں ایسے کام کیے جن کی بنا پر اسے کوفہ سے نکال دیا
[1] اعداء صحابہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جن مطاعن کا نشانہ بنایا ہے قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ نے ان کا نام قواصم رکھا ہے۔ اور ہر ’’قاصمہ‘‘ کا جواب کتاب و سنت کے دلائل و براہین سے ’’ عاصمہ‘‘ کے نام سے دیا ہے اس مجموعے کا نام’’ العواصم من القواصم‘‘ ہے جس پر علامہ محب الدین رحمہ اللہ نے بڑے عالمانہ حواشی تحریر کیے ہیں ۔ صحابہ کے بغض و عناد سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔ اعداء صحابہ نے اپنی تصانیف کو جھوٹ کا پلندہ بنا دیا تھا۔ یہ جھوٹ لوگوں میں خوب پھیلتا رہا اور بعض مسلمان حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے بد دل ہونے لگے قاضی ابن العربی رحمہ اللہ کی اس قابل قدر تصنیف کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ نے حق کا بول بالا کیا اور لوگ بڑی حد تک مستفید ہوئے۔ وللّٰہ الحمد۔ [2] سیدنا سعید بن عاص فصحائے قریش میں سے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب قرآن کریم لکھوانا شروع کیا تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو بلا کر اس کی عبارت درست کی، کیوں کہ سعید کا لہجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ملتا جلتا تھا۔ سعید اس حد تک مخلص مسلمان تھے کہ جب ایک مرتبہ سیدنا عمر نے کہا کہ :’’ میں نے تمہارے والد کو قتل نہیں کیا، بلکہ اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا تھا۔‘‘ اس کے جواب میں سعید نے کہا:’’ اگر آپ قتل بھی کرتے تو آپ حق پر ہوتے اور وہ باطل پر۔‘‘ سعید بن عاص نے طبرستان کا علاقہ فتح کیا اور جرجان پر بھی چڑھائی کی تھی۔ آپ کی فوج میں سیدنا حذیفہ اور دیگر کبار صحابہ شامل تھے۔ سیدنا عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت دھاری دار چادر لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے نذر مانی تھی کہ یہ چادر اس شخص کو دوں گی جو عرب بھر میں سب سے زیادہ باعزت ہو۔ آپ نے فرمایا، اس لڑکے کو دے دو۔‘‘ (الاصابہ (۲؍۴۸) مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر(