کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 486
پربعض لوگوں نے اعتراض کیا تھا ؛ مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑا]۔ خلافت عثمانی میں جو خیر اور فتوحات اور مصلحتیں اور خیر و برکات پائی جاتی تھیں ان کوصحیح معنوں میں تواللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔[1] [عثمانی دور کی کثیر فتوحات تاریخ اسلام کا زریں باب ہیں ]: جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو مناصب جلیلہ پر فائز کیااور ان کو بھاری انعامات دیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور اقرب کو ولایت و امارت پر فائز کیا جاتا رہا۔بلکہ بعض کے دور میں وہ فساد اور شر بپا ہوا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں نہیں ہوا تھا۔ بعض قریبی لوگوں کو ولایت سے نوازنے اور مال بخشنے میں ترجیح دینے کو اس سے کیا نسبت کہ امت آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتی رہے ۔ اپنی دینی اور دنیاوی مصلحتوں کو فراموش کردے۔ یہاں تک کہ کفار بلاد اسلامیہ کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگے۔مسلمانوں کا اتحاد اور یکجہتی ختم ہوجائے ۔ فتوحات کا سلسلہ رک گیا؛ خود ان کے مابین پھوٹ پڑگئی۔اور دشمن کے سامنے اتنے عاجز آگئے کہ بعض اسلامی شہروں پر دوبارہ کافروں نے تسلط جمالیا؛ اور ان سے کچھ شہر اور اموال صلح یاغلبہ کے ذریعہ سے واپس لے لیے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پرتناقض کا الزام : [اعتراض ]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کے لیے جن صحابہ کو چنا تھا، ان میں سے ہر ایک کو آپ نے موردِ طعن بنایا اور یہ ظاہر کیا کہ آپ اپنی موت کے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کرنا چاہتے۔اس کے برعکس تعیین امام کے لیے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بھی بنا دی۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی] [جواب]: یہ ہے کہ آپ نے ان چھ حضرات پر اس طرح نقد و جرح نہیں کیا تھا۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہو کہ
[1] سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے سیدنا عثمان کے منادی کویہ آواز دیتے سنا ارے لوگو! صبح حاضر ہو کر اپنی تنخواہ وصول کرو۔ چنانچہ لوگ حاضر ہو کر اپنا مشاہرہ وصول کر لیتے، بعض اوقات منادی کہتا اے لوگو! مال غنیمت میں سے اپنا حصہ لے لو۔ لوگ جاتے اور پورا حصہ وصول کر لیتے۔ اﷲکی قسم! میں نے بگوش خودمنادی کو یہ پکارتے سنا: ارے لوگو! حاضر ہو کپڑے لے لو۔ لوگ جاتے اور کپڑے لے لیتے۔ اسی طرح گھی اور شہد بھی تقسیم کیا جاتا تھا۔ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں خلافت عثمانی میں مال و دولت اور روپیہ پیسہ کی فراوانی تھی۔ کرۂ ارضی پر کوئی مومن دوسرے مومن سے ڈرتا نہ تھا بلکہ الفت و محبت کا سلوک کرتا اور اس کی مدد کرتا تھا۔(یہ روایت محدث ابن عبد البر نے ذکر کی ہے)۔ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کے مشہورمعاصر اور رفیق کار ابن سیرین جو سیدنا عثمان کے ہم عصر تھے۔ فرماتے ہیں :’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مال و دولت کی افراط تھی۔ اس کی حد یہ ہے کہ ایک لونڈی سونے میں تول کر فروخت کی گئی تھی۔ ایک گھوڑا لاکھ درہم اور کھجور کا ایک درخت ہزار درہم کے عوض فروخت کیا گیا تھا۔‘‘سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ و عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:’’ تیرا برا ہو تو ایسے دو حضرات کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہا ہے جو دونوں مجھ سے افضل ہیں ، تم چاہتے ہو کہ میں ایک کی قدر بڑھاؤں اور دوسرے کی گھٹاؤں ۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۳۷۰۴)، بمعناہ۔