کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 484
اعتراض کیا۔ عہد نبوت میں حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کے تقرر پر جرح کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بعض حکام کو مقررکرتے یا معزول کرتے تو صحابہ اس پر بھی معترض ہوا کرتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بعد آپ کی ولایت و قوت غلبہ و شوکت اور آپ کے اعوان و انصار کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔بنو امیہ کو بھی ظہور اور غلبہ حاصل ہوگیا تھا۔ تاہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عزل و نصب پر لوگ نقد و جرح کیا کرتے تھے۔ خلافت عثمانی کے آخری دَور میں جب لوگوں نے بعض عمال پر اعتراض کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کردیا۔ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بعض عمال کی شکایت کی کہ وہ ناجائز طور سے مال و صول کرتے ہیں تو آپ نے ان کو معزول کرکے مال اخذ کرنے سے روک دیا۔ حالانکہ یہ اعتراض کرنے والے معمولی درجہ کے لوگ تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ محتشم ہونے کے باوصف ان کی شکایات سنتے تھے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ عزت و قوت کے باوجود جلیل القدر صحابہ کی بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سنی نہ جاتی اور اس کے باوجود وہ خلیفہ قرار پاتے۔[[اس دور میں جو فتنے اٹھے وہ اس پر مزید ہیں صحابہ کرام تلخ گھونٹ پی کر چپ رہنے کے خوگر نہ تھے]] [1] یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تو وہ اس پر بھی چپ نہ رہ سکے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے کہا:
[1] مؤرخ طبری اپنی تاریخ کی جلد پنجم ،صفحہ:۱۹۵، پر لکھتے ہیں :’’ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب جنگ جمل کے بعد بیعت لینے سے فارغ ہوئے اور عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کو والی بصرہ مقرر کیا تو اشتر نخعی یہ بات سن کر سخت ناراض ہوا اور کہا ،پھر ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرکے کیا فائدہ پہنچا؟ یمن عبید اﷲ کو مل گیا۔ حجاز قثم کو، بصرہ عبد اﷲ رضی اللہ عنہ کو اور کوفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا‘‘ پھر سوار ہو کر واپس چل دیا۔ [اس سے پتہ چلا کہ قاتلان عثمان کون تھے]۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقرباء نوازی کا اعتراض لغو ہے۔یہ بات دراصل ان کے فضائل و مناقب میں شمار ہوتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں فرمایا کرتے تھے: آپ صلہ رحمی کرنے میں سب صحابہ سے پیش پیش ہیں ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بذات ِ خود اس اعتراض کا یہ جواب دیا تھا:’’ مجھ پر طعن کیا جاتا ہے کہ میں اپنے کنبہ و قبیلہ سے محبت رکھتا ہوں ، میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ان پر جملہ حقوق بھی عائد کرتا ہوں ۔ جہاں تک ان کو عطیہ جات دینے کا تعلق ہے میں اپنے مال سے ان کو تحائف دیتا ہوں اور مسلمانوں کے مال کو اپنے لیے یا کسی اور کے لیے حلال نہیں سمجھتا۔ میں عہد رسالت اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں بھی اپنے مال سے اقارب کو دیا کرتا تھا، جب کہ مجھے مال کی شدید ضرورت تھی اور میں اس کا حریص بھی تھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میں نے اپنا سب اثاثہ اپنے قبیلہ والوں کو دے دیا ہے مجھے ہدف ملامت بنایا جاتا ہے۔ نیز جلد پنجم،صفحہ:۱۰۳، پر لکھتے ہیں :’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و دولت اور اراضی بنو امیہ میں بانٹ دی تھی اور اپنے بیٹوں کو بھی وہی حصہ دیا جو دیگر اموی افراد کو ملا تھا۔ ابو العاص کے بیٹوں سے شروع کرکے آپ نے آل حکم کے مردوں میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار درہم دیے، چنانچہ انھوں نے ایک لاکھ درہم وصول کیے۔ بنو عثمان کو بھی اتنا ہی دیا۔آپ نے بنو العاص،بنو العیص اور بنو حرب میں اپنا سب اثاثہ تقسیم کردیا۔‘‘