کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 475
کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ شارع کے لیے یہ ممکن نہیں کہ روز قیامت تک پیدا ہونے والے جملہ مسائل ایک ایک فرد کو بوضاحت و صراحت بیان کردے۔ نظر بریں امور متعینہ میں غور و فکر کرکے اجتہاد کے ذریعہ سے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ شارع کے کلمات جامعہ میں داخل بھی ہیں یا نہیں ؟ فقہی اصطلاح میں اس اجتہاد کو تحقیق المناط کہتے ہیں جس پر مثبتین و منکرین قیاس سب کا اتفاق ہے۔
مثلاً اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ دو عادل اشخاص کو گواہ بنا لینا چاہیے، اب کسی مخصوص شخص کے بارے میں ہمیں نص کے ذریعہ یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ عادل ہے یا نہیں ، بلکہ یہ بات اجتہاد خاص سے معلوم ہو گی۔ اسی طرح اﷲتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ امانت اس کے حق دار کو ادا کردینی چاہیے اور فرائض و مناصب بھی اسی شخص کو تفویض کرنا چاہیے جو ان کا اہل ہو مگر کسی متعین شخص کا کسی منصب کے لیے موزوں ہونا نص سے نہیں بلکہ اجتہاد خاص سے معلوم کیا جا تا ہے۔
اگر روافض کا خیال ہے کہ خلیفہ منصوص علیہ ہوتا ہے ( اس کا تقرر شرعی نص کی بنا پر وجود میں آتا ہے) اور اس کے پہلو بہ پہلو وہ معصوم بھی ہوتا ہے تو یہ غلط ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء و عمال غیر معصوم تھے تو امام وخلیفہ کیوں کر معصوم ہو سکتا ہے ؟ یہ ممکن نہیں ہے کہ شارع ہر مخصوص و متعین چیز کو صراحتاً بیان کردے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ نبی و امام کو کسی مخصوص شخص کے باطنی احوال کا علم ہو۔بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو والی مقرر کیا ؛ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ ﴾۔
’’اے مسلمانو!اگر تمہیں کوئی بے اعتبار آدمی خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو ۔‘‘[الحجرات۶] [1]
آپ کا خیال یہ تھا کہ اس معاملہ میں حق بنی ابیرق کے ساتھ ہے ؛ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰیکَ اللّٰہُ وَ لَا تَکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا﴾
’’ بے شک ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق
[1] بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ قبیلہ بنی مصطلق جب مسلمان ہوا تو رسول اللہ نے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو ان سے زکو لینے کے لیے بھیجا۔ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ اور بنی مصطلق میں پہلے سے دشمنی چلی آرہی تھی۔ جب ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں گئے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور واپس آکر آپ سے کہہ دیا کہ وہ زکو دینے سے انکاری ہیں ۔ بلکہ وہ تو مجھے بھی قتل کر دینا چاہتے تھے۔ بعض لوگوں نے یہ رائے دی کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے ان پر چڑھائی کرنا چاہئے مگر آپ اس معاملہ میں متمل تھے۔ اسی دوران بنی مصطلق کا سردار حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ (ام المومنین سیدنا جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد) اتفاق سے آپ کے ہاں آئے۔ تو انہوں نے بتایا کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ تو ہمارے ہاں گئے ہی نہیں تو ان کے قتل کا سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟ ہم مسلمان ہیں اور زکو دینے کو تیار ہیں ۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔[الدراوی]