کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 473
ابن حنفیہ نے پوچھا: ’’ ان کے بعد کون؟‘‘ فرمایا:’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ ۔‘‘[1] یہ محمد بن حنفیہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ باپ بیٹے کا مکالمہ ہے۔ اسے تقیہ پر محمول نہیں کر سکتے۔ ابن حنفیہ نے یہ روایت خاص طور سے اپنے والد سے نقل کی ہے اور انھوں نے یہ بات منبر پر کہی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’ جو شخص مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماسے افضل قرار دے گا میں اس پر حد قذف لگاؤں گا۔‘‘[2] سنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ دونوں جو میرے بعد ہیں یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ؛ان کی اطاعت کیجیے۔‘‘[3] علماء سے ایک قول یہ بھی منقول ہے ؛اور امام احمد رحمہ اللہ کا بھی ایک قول یہی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکا متفق علیہ قول لازم الاتباع ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سنت کی پیروی کا حکم دیا ہے۔یہی قول راجح ہے۔جیسا کہ اگر ان چاروں خلفاء کا کسی بات پر اتفاق ہوجائے تو اس کے خلاف کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اعدل و اکمل امور دے کر مبعوث کیا گیا تھا، چنانچہ آپ ہنس مکھ بھی تھے اور مجاہد بھی ۔ آپ نبی الرحمۃ بھی تھے اور صاحب قتال و جہاد بھی ۔ یہ صرف آپ ہی کی خصوصیت نہیں ، بلکہ آپ کی امت بھی دونوں اوصاف
[1] صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ لوکنت متخذاً خلیلاً‘‘ (ح:۳۶۷۱)۔ [2] یہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات نہیں ؛ بلکہ متقدمین اہل بیت رضی اللہ عنہم کا یہی عقیدہ تھا۔ اوروہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہماسے محبت کا دم بھرتے تھے ۔ اور اس کا کھلے عام اعلان بھی کرتے تھے۔ چنانچہ کلینی روایت کرتا ہے کہ ایک عورت نے جعفر صادق سے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہماکے بارے میں سوال کیا تو عرض کی کیا آپ ان دونوں کو دوست سمجھتے اور ان سے محبت کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا:’’ تم ان سے محبت رکھو۔ ‘‘ اس نے کہا میں جب اپنے رب سے ملوں تو اسے کہہ دوں کہ تم نے مجھے ان دونوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ۔ [الروضۃ من الکافی: ۸ ؍ ۱۹۹۵۔ حدیث نمبر: ۷۱۔ حدیث أبی بصیر مع المرأۃ۔ ۸؍ ۲۰۷۹ حدیث نمبر: ۳۱۹۔ حدیث علی بن حسین ....‘‘ ] اسی پر بس نہیں بلکہ زید بن علی بن حسین بن علی بن أبی طالب رحمہ اللہ نے اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا انہوں نے اپنے آباء واجدادمیں سے کسی کو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے نہیں سنا۔[الانتفاضات الشیعۃ: ۴۸۹۔] شیعہ عالم ابو جعفر محمد بن حبیب نے کہا ہے کہ : ’’حضرت زید کی وجہ سے ان لوگوں کا نام رافضی پڑا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت کی بیعت کی‘اور پھر آپ کا امتحان لینے لگے ؛ تو آپ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماسے محبت و موالات کا اظہار کیا تو انہوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔اس دن سے ان کا نام رافضی پڑ گیا۔‘‘ المحبرص ۴۷۳؛ لمحمد بن حبیب (متوفی ۲۴۵ہجري)۔الصوارم ۲۲۵؛ رقم ۷۶۔ إنا نرفضک ۔فقال إذہبوا أنتم الرافضۃ ) اور انہوں نے یہ بھی فرمایا: ’’ میں اس شخص سے بری ہوں جو ان دونوں سے بری ہوتا ہے۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماسے برأت درحقیقت علی سے براء ت ہے۔ ‘‘ یہ سن کر وہ کہنے لگے تب ہم تمہاری امامت کا انکار کرتے ہے ۔ مروج الذہب ومعادن الجوہر : ۳؍ ۲۲۰۔ روضات الجنات: ۱؍ ۳۲۴۔ [3] سنن ترمذی، کتاب المناقب باب(۱۶؍۳۵) ،(حدیث:۳۶۶۲،۳۶۶۳)، سنن ابن ماجۃ، المقدمۃ، باب فضائل ابی بکر الصدیق، (حدیث: ۹۷)، من حدیث حذیفۃ۔