کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 471
کو تہ تیغ کردیجیے۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے؛ انہیں کوئی جواب نہ دیا۔جب باہر تشریف لائے؛ تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: آپ کی مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے، جنھوں نے فرمایا تھا:
﴿مَنْ تَبِعَنِی فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ (ابراہیم:۳۶)
نیز آپ کی مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جن کا ارشاد ہے:﴿ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ﴾ (مائدۃ:۱۱۸)
پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: آپ کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام جیسی ہے، جنھوں نے فرمایا تھا:
﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا﴾ ( نوح:۲۶)
نیز آپ کی مثال سیدنا موسیٰ علیہ السلام جیسی ہے، انھوں نے فرمایا تھا:
﴿ رَبِّ اشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَ لِیْمَ﴾ ( یونس:۸۸)
ابن بطہ نے ثابت شدہ اسناد سے زنجی بن خالد کی سند سے اسماعیل بن امیہ سے روایت کیاہے؛ وہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:
’’ اگر تم دونوں ایک بات پر متفق ہوجاؤ تو میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا۔‘‘ [مسند أحمد ۵؍۲۲۸]
سلف صالحین حتی کہ شیعہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقدیم پر متفق تھے۔
ائمہ سلف کے یہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی عظمت و فضیلت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا۔ اس کی حد یہ ہے کہ شیعان علی تک اس سے متفق تھے۔ ابن بطہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابو العباس بن مسروق کے نام سے مشہور ہیں کہ ابواسحاق سبیعی جب کوفہ آئے تو شمر بن عطیہ نے ہمیں تعظیماً کھڑا ہونے کا حکم دیا۔ ابو اسحاق بیٹھ کر ہم سے بات چیت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا جب میں کوفہ سے نکلا تھا تو میں نے کوفہ میں ایک شخص بھی ایسا نہیں پایا جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکی عظمت شان میں شک رکھتا ہو۔ اب میں واپس لوٹا ہوں تو لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ اﷲ کی قسم! مجھے کچھ علم نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ [2]
[1] مسلم، باب الامداد بالملائکۃ ....، (ح:۱۷۶۳)۔
[2] یہ اس باب میں ایک تاریخی شہادت ہے کہ شیعہ کے نظریات کس عجلت کے ساتھ تغیر پذیر رہے۔ ابو اسحاق سُبیعی کوفہ کے مشہور شیخ اور عالم تھے۔ سیدنا علی کے عہد خلافت میں کمسن تھے وہ خود کہتے ہیں :’’ میرے والد مجھے اٹھا کر سیدنا علی کی خدمت میں لے گئے....۔‘‘ اگر ہمیں یہ بات معلوم ہو جائے کہ آپ کب کوفہ سے گئے اور کب واپس لوٹے تو ہم جان سکیں گے کہ وہ زمانہ کون سا تھا جس میں شیعہ سیدنا علی کے اتباع میں شیخین کی عظمت و فضیلت کے قائل تھے اور تاریخ کے کس دور میں شیعان علی نے آپ کی پیروی چھوڑ دی۔سیدنا علی کوفہ کے منبر پرفرمایا کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ افضل الامت اور آپ کے وزیر و خلیفہ تھے۔ یہ امر موجب حیرت ہے کہ خوارج اور اباضیہ نے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنے اس نظریہ کو تبدیل نہ کیا ؛مگر سیدنا ابو اسحاق سبیعی کی زندگی کے آخری دور تک شیعہ نے اپنا یہ نظریہ تبدیل کردیا اور اس ضمن میں سیدنا علی کی نافرمانی کرنے لگے۔