کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 216
پس فاسق مومن نہیں ۔ لہٰذا وعدہ کی نصوص اسے شامل نہیں ۔ اس کی دلیل یہ صحیح حدیث بھی ہے۔ چنانچہ نبی کیرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’کوئی زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا اور کوئی شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں ہوتا اور کوئی چور چوری کرتے وقت مومن نہیں ہوتا۔‘‘ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے: ’’جس نے ہمارے ساتھ ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘[1] [اعمال کی قبولیت کی بحث:] مرجئہ اپنے یہ دلائل پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ: ﴿اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَo﴾ (المائدۃ: ۲۷) ’’اس نے کہا بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے۔‘‘ میں متقی سے مراد وہ شخص ہے جو شرک سے بچتا ہو، ان کے نزدیک اعمال صرف کفر سے ہی ضائع ہوتے ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ﴾ (الزمر: ۶۵) ’’بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ﴾ (المائدۃ: ۵) ’’اور جو ایمان سے انکار کرے تو یقیناً اس کا عمل ضائع ہوگیا۔‘‘ ان کی دلیل رب تعالیٰ کا ایک یہ ارشاد بھی ہے: ﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَ مِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُo جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا﴾ (فاطر: ۳۲۔۳۳)
[1] صحیح مسلم: ۱؍۹۹۔ مسند احمد: ۱۸؍۱۰۰ طبعۃ المعارف۔ اور دوسری حدیث حضرت ابن عمر، حضرت ابو موسی اشعری اور حضرت سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے اور یہ حدیث ’’صحیح البخاری‘‘ (۹؍۴) میں مروی ہے۔ اس کے علاوہ ’’صحیح مسلم‘‘ (۱؍۹۸) میں بھی مروی ہے۔ جبکہ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا اور لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ وغیرہ کے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ’’سنن ابی داود‘‘ (۳؍۳۷۰)، ’’جامع ترمذی‘‘ (۲؍۳۸۹) اور ’’مسند احمد‘‘ میں متعدد مقامات پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن اور صحیح ہے۔ اہل علم کے ہاں اسی حدیث پر علم ہے۔ ان کے نزدیک ملاوٹ کرنا مکروہ ہے اور بعض نے اسے حرام بھی کہا ہے۔