کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 187
میں بھی یہی مسلک ہے کہ جو بھی بہتر فرقوں کی تکفیر کا قائل ہو گا وہ کتاب و سنت کا مخالف اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرات تابعین عظام رحمہم اللہ کے اجماع کا مخالف ہو گا۔ اس میں مستزاد یہ کہ بہتر فرقوں والی حدیث صحیحین میں مروی نہیں ۔ ابن حزم وغیرہ نے تو اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، گو کہ دوسرے حضرات نے اس حدیث کو حسن یا صحیح بھی کہا ہے، جیسا کہ حاکم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کو اہل سنن نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔[1] پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’بہتر فرقے جہنم میں اور ایک فرقہ جنت میں ہو گا‘‘ رب تعالیٰ کے ارشادات سے بڑا نہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْبَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًا وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا﴾ (النساء: ۱۰) ’’بے شک جو لوگ یتیموں کے اموال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ ‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا o﴾ (النساء: ۳۰) ’’اور جو زیادتی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ پر ہمیشہ سے بہت آسان ہے۔‘‘ ایسے افعال کے مرتکبین کے دخولِ نار کی بابت قرآن کریم کی اور بھی متعدد صریح نصوص موجود ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہم کسی متعین شخص کے جہنمی ہونے کی گواہی نہیں دے سکتے کیونکہ اس کے توبہ تائب ہونے کا امکان ہے۔ یا ممکن ہے کہ اس کی ایسی نیکیاں ہوں جو اس کی برائیوں کو مٹا دیں یا رب تعالیٰ آفتوں اور مصیبتوں کے بدلے اس کی برائیوں کو مٹا دے وغیرہ وغیرہ کہ جس کی تفصیل گزشتہ میں مذکور ہو چکی ہے۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول پر ظاہر اور باطن کے اعتبار سے ایمان رکھنے والا، جس کا ارادہ حق کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی تعلیمات کی اتباع کا ہو، اگر وہ غلطی کر بیٹھے جبکہ اسے حق کا
[1] یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ سنن ابی داود (۴؍۲۷۶) کتاب السنۃ، باب شرح السنۃ اور ’’سنن الترمذی‘‘(۴؍۱۳۴۔۱۳۵) کتاب الایمان، باب افتراق ہذہ الامۃ میں مروی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : حدیث ابی ہریرہ صحیح اور حسن حدیث اور دیکھیں : ’’سنن ابن ماجہ‘‘ (۲؍۱۳۲۱) کتاب الفتن، باب افتراق الامم، ’’مسند احمد‘‘ طبع المعارف (۱۶؍۱۶۹) احمد شاکر نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ امام سیوطی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ’’المستدرک للحاکم‘‘ (۱؍۱۲۸) حاکم کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح اور مسلم کی شرط پر ہے اور علامہ ذہبی نے اس تصحیح کی موافقت کی ہے۔ ’’السلسلۃ الصحیحۃ‘‘ المجلد الاول، رقم الحدیث: ۲۰۴، سنن ابی داود: ۴؍۲۷۶، سنن الترمذی: ۴؍۱۳۵، سنن ابن ماجہ: ۲؍۱۳۲۲، سنن الدارمی: ۲؍۲۴۱، کتاب السیر، باب فی افتراق ہذہ الامۃ۔