کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد6،5) - صفحہ 186
سوالات کے جوابات دئیے تھے۔[1]نافع آپ کے ساتھ قرآن کے ذریعے یوں مناظرہ کیا کرتا تھا جیسے دو مسلمان ایک دوسرے سے کسی بات پر مناظرہ کرتے ہیں ۔ غرض خوارج کے بارے میں مسلمانوں کا طرز یہی رہا، مسلمانوں نے انھیں ان مرتدین کے جیسا باور نہ کیا تھا جن کے ساتھ جنابِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ باوجود اس کے کہ صحیح احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قتال کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ ’’خوارج آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سب سے بدترین ہیں (اور) سب سے بہتر قتل ہونے والا وہ جسے یہ خوارج قتل کر دیں ۔‘‘ یہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جسے امام ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔[2] یعنی خوارج مسلمانوں کے حق میں دوسروں سے زیادہ بدتر اور شریر ہیں ۔ حتیٰ کہ اتنے شریر اور بدتر نہ یہود ہیں اور نہ نصاری ہیں ۔ کیونکہ ان کا یہ بدترین اجتہاد تھا کہ جو مسلمان بھی ان کی رائے کا ہم نوا نہ ہو، اسے قتل کر دینا جائز ہے۔ چنانچہ یہ مسلمانوں کو اس تاویل سے کافر قرار دے کر انھیں اور ان کے بیوی بچوں کو قتل کر دینا اور ان کے اموال لوٹ لینا حلال سمجھتے تھے۔ ان لوگوں نے اس بدتر گناہ کو اپنی عظیم ترین جہالت اور گمراہ کن بدعت کی بنا پر اپنا دین سمجھ رکھا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرات تابعین عظام رحمہم اللہ نہ انھیں کافر سمجھتے تھے نہ مرتد قرار دیتے تھے، اور نہ کسی قول و فعل سے ان پر ظلم و اعتدا ہی کرتے تھے۔ بلکہ ان خوارج کی بابت رب تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور ان کے ساتھ عادلانہ رویہ اپنائے رکھتے تھے اور شیعہ اور معتزلہ وغیرہ کے باقی بدعتی فرقوں اور اہل ہواء کے بارے
[1] نجدہ بن عامر حروری المتوفی ۶۹ھ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر چند فقہی مسائل پوچھے تھے۔ سزکین نے ذکر کیا ہے کہ یہ واقعہ ’’الانساب للبلاذری‘‘ (۱؍۷۱۵) اور ’’لسان المیزان‘‘ لابن حجر (۶؍۱۴۸) میں مذکور ہے۔ ہمیں ان مراسلات کا بعض حصہ ’’المدونۃ‘‘ (۳؍۶) میں مذکور کلا ہے۔ اس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نافع کو بھی اس کے پوچھے گئے چند سوالات کے جوابات لکھ بھیجے تھے۔ (دیکھیں : العلل لابن حاتم الرازی: ۱؍۳۰۷) [2] سنن الترمذی، کتاب التفسیر من سورۃ آل عمران: ۴؍۲۹۴۔ یہ حدیث حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کی عبارت یہ ہے: ابوغالب سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کے راستوں اور سیڑھیوں میں چند سروں کو لٹکتے دیکھا تو فرمایا: یہ دوزخ کے کتے ہیں ۔ آسمان کی چھت تلے قتل ہونے والے یہ بدترین لوگ ہیں (اور) جنھیں یہ قتل کر دیں وہ سب سے بہتر قتل وہنے والے ہیں ۔ پھر حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت آخر تک تلاوت کی:﴿یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ﴾ (آل عمران: ۱۰۶) ’’جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘ میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے خود سنی ہے؟ انھوں نے فرمایا: اگر میں یہ حدیث ایک بار، یا دو بار، یہاں تک کہ سات بار فرمایا کہ اگر میں نے یہ حدیث سات بار تک نہ سنی ہوتی تو میں تم لوگوں کو یہ حدیث نہ سناتا۔‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ یہ حدیث ’’سنن ابن ماجہ‘‘ (۱؍۶۲) المقدمۃ، باب فی ذکر الخوارج اور ’’مسند احمد‘‘ (۵؍۲۵۳، ۲۵۶) طبع حلبی میں مطولاً ذکر ہے۔