کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 97
یہ ممکن ہے ؛ اس لیے کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مفسرین کرام کا اختلاف ہے کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اس سے کون مرادہے ؟ بعض نے کہا ہے : یہ آیت مہاجرین اور انصار کے بارے میں نازل ہوئی؛ اور اس سے مراد مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں ۔اور پھر یہ قول سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے:’’یہ آیت بعض خاص لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘ امام قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے؛ وہ کہتے ہیں :ہم سے حسین نے حدیث بیان کی؛ ان سے حجاج نے ان سے ابن جریج نے ؛وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں ؛ عکرمہ کہتے ہیں :’’یہ آیت حضرت صہیب اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب بدر والوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا مگر وہ ان سے چھوٹ کر بارگاہ نبوی میں پہنچ گئے۔ جب واپس لوٹے تو کفار پھر آڑے آئے؛ یہ واقعہ مرّ الظہران نامی جگہ پر پیش آیا۔آپ پھر ان سے چھوٹ گئے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوگئے۔جب کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر والوں نے پکڑ لیا تھا۔ آپ نے فدیہ دے کر ان سے رہائی حاصل کرلی۔ پھر ہجرت کرتے ہوئے نکل پڑے کہ قنفذ بن نفیل بن جدعان نے آپ کو پکڑ لیا۔ آپ کے پاس جو مال رہ گیاتھا ؛ وہ اسے دیکر جان چھڑائی۔ علاوہ ازیں آیت کے الفاظ عام ہیں اور رضائے الٰہی؛اور اطاعت و جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنی جان کو فروخت کرنے والا ہر شخص اس میں داخل ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ بیعت الرضوان میں شمولیت کرنے والوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت کی بیعت کی تھی۔[1]
[1] تفسیر میں یہ کہا ہے۔تفسیر قرطبی میں ہے: کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرکے آئے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کا پیچھا اور تعاقب کیا۔ تو وہ اپنی سواری سے نیچے اتر پڑے اور ترکش میں موجود تمام تیر نکال لیے، اور اپنی قوس تیرکمان پکڑ لی اور فرمایا : تم جانتے ہو میں تم سے زیادہ تیر چلانے میں ماہر ہوں ، اللہ تعالیٰ کی قسم !تم مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے یہاں کہ میں اپنے ترکش کے سارے تیر پھینک دوں ۔ بعد ازاں میں اپنی تلوار سے لڑوں گا جب تک اس کی کوئی شے میرے ہاتھ میں باقی رہی پھر اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔ تو انہوں نے کہا : ہم تجھے نہیں چھوڑ سکتے کہ تم غنا اور خوشحالی کی حالت میں ہم سے چلے جاؤ حالانکہ تم ہمارے پاس محتاج بن کرافلاس کی حالت میں آئے تھے۔ لیکن اگر تم مکہ میں موجود اپنے مال پر ہماری راہنمائی کرو تو ہم تمہارا راستہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے اسی مال کی شرط پر آپ سے معاہدہ کیا، تو آپ نے اسے پورا کردیا۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی : [ تفسیر طبری، ج ۳، ص۱۹۵] اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی جو جنگ میں گھس جاتا ہے، ہشام بن عامر قسطنطینہ میں لشکر میں داخل ہوئے اور خوب قتال کیا، یہاں تک کہ شہید کردیے گئے توحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ اور حضرت ابو ایوب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [تفسیر طبری، جلد ۳، صفحہ ۳۹۵] اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت غزوہ رجیع کے شہدا کے بارے میں نازل ہوئی اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے : وہ مہاجرین وانصار ہیں ۔  بخاری ح:۴۱۶۹، مسلم، ح: ۱۸۶۰