کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 88
کہا جاتا ہے کہ دس سے زائد صحابہ ایسی روایات کے نقل کرنے میں یک زبان ہیں ، جب روافض جمہور صحابہ کی مرویات کو صحیح تسلیم نہیں کرتے تو معدودے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت کردہ احادیث کیوں کر ان کے نزدیک حجت ہوں گی؟ اس مسئلہ پر اپنی جگہ پر تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے۔
یہاں پر مقصود یہ ہے کہ شیعہ کا قول کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ تینوں خلفاء کرام رضی اللہ عنہم کی محبت واجب نہیں ۔‘‘ جمہور کے ہاں یہ کلام باطل ہے۔ بلکہ اہل سنت و الجماعت کے ہاں ان تینوں حضرات کی محبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے بڑھ کر واجب ہے ۔اس لیے کہ محبت فضلیت کی مقدار کے لحاظ سے واجب ہوتی ہے۔ پس جس کی جتنی زیادہ فضیلت ہوگی؛ اس کی محبت بھی اتنی زیادہ واجب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾ [مریم۹۶]۔
’’بیشک جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے؛ ان کے لیے اللہ رحمن محبت پیدا کر دے گا ۔‘‘
اس کی تفسیر میں علمائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت کرتا ہے ‘ اور لوگوں کے دلوں میں بھی ان کے لیے محبت ڈال دیتا ہے۔ یہ جماعت اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سے افضل ترین لوگ تھے جوایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔[1] جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
[1] تھے ۔ وہ چار یہ ہیں : سلمان فارسی، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار۔اس بات میں ذرہ برابر اشکال نہیں ہے۔[ الأنوار النعمانیۃ: ۱؍ ۸۱۔]
فضیل بن یسار، ابو جعفر سے بیان کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’بیشک جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو چار افراد کے سوا تمام لوگ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے تھے؛ وہ چار یہ ہیں : علی، مقداد، سلمان اور ابوذر۔ ‘‘ میں نے پوچھاحضرت عمار کو شمار نہیں کیا؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو بالکل تبدیل نہ ہوئے تو وہ یہی تین ہیں ۔حالانکہ پہلے چار افراد ذکر کیے تھے ؟!‘‘
تفسیر العیاشی: ۱؍ ۲۲۳۔ حدیث نمبر: ۱۴۹ سورۃ آل عمران۔ تفسیر الصافی: ۱؍ ۳۸۹ تفسیر البرہان: ۱؍ ۳۱۹۔ بحار الأنوار: ۲۲؍ ۳۳۳۔ حدیث نمبر:۴۶۔ باب فضائل سلمان وأبی ذر ۔‘‘
شیعہ عالم الکاشانی لکھتا ہے: ’’صحابہ سے علم حاصل کرنے والے -تابعین - میں سے اکثر لوگ صحابہ کرام کی حقیقت سے لاعلم تھے؛ اس لیے وہ انہیں عادل قرار دیتے تھے۔اور ان کے ہاں یہ طے شدہ تھا کہ تمام صحابہ عدول ہیں ۔ اوران میں سے کسی ایک نے بھی راہ حق سے روگردانی نہیں کی۔انہیں یہ پتہ چل نہیں سکا کہ ان میں سے اکثر کے دلوں میں نفاق تھا۔وہ اﷲ پر بڑی جرأت سے باتیں بناتے اور رسول اﷲکی دشمنی میں ان پر الزام تراشیاں کرتے ہیں ‘ اور خود نافرمانی پر سر بستہ ہیں ۔‘‘ [تفسیر الصافی: ۱؍ ۹( کتاب کا دیباچہ )۔]
[ شیعہ کے امام خمینی کا کہنا ہے کہ:’’ صحابہ رضی اللہ عنہم کو منافقین کا نام دیا جاتا تھا ۔ [الحکومۃ الا سلامیہ: ۶۹۔ دیکھیے: علی و منا وؤہ: ۱۲]
یعنی دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی نیکی اور پارسائی کی وجہ سے محبت پیدا کر دے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے؛جب اللہ تعالیٰ کسی (نیک ) بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ جبرائیل علیہ السلام کو کہتا ہے، میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنی شروع کر دیتے ہیں پھر جبرائیل علیہ السلام آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت اور پذیرائی رکھ دی جاتی ہے۔(صحیح بخاری)