کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 87
توخوارج و نواصب کہہ سکتے ہیں کہ ’’ قرآنی عمومات میں تو دیگر صحابہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل ہیں ؛ جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [الفتح۱۸]
’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے خوش ہوگیا ۔‘‘اور اس طرح کی دوسری آیات بھی ہیں ۔
مگرتم شیعہ اکابر صحابہ کو ان عمومات سے خارج کرتے ہو؛تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتنی بڑی جماعت کی بجائے آسان تر ہے کہ صرف ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان سے خارج کردیا جائے۔
اگر شیعہ کہے کہ ’’ احادیث نبویہ سے اور ان کی شان میں قرآن کے نزول سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ولی ہونا ثابت ہے ۔‘‘[1]
تو اس کا جواب یہ ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب کی احادیث کثرت کے ساتھ اور واضح ہیں مگر شیعہ ان پرتنقید اوراعتراض کرتے ہیں ۔ دوسری جانب فضیلت علی رضی اللہ عنہ میں شیعہ جو روایات بیان کرتے ہیں ان کے ناقل وہی صحابہ ہیں جو شیعہ کے نزدیک مطعون ہیں ۔ اب دو ہی صورتیں ہیں :
۱۔ اگر صحابہ پر شیعہ کی جرح و قدح درست ہے تو فضیلت علی رضی اللہ عنہ میں ان کی روایات بھی معتبر نہیں ہیں ۔
۲۔ اگر فضیلت علی رضی اللہ عنہ کی روایات قابل اعتماد ہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم پر شیعہ کے مطاعن لغو ہیں ۔
اگر روافض کہیں کہ فضیلت علی رضی اللہ عنہ کی روایات شیعہ کی نقل اور تواتر کے مطابق معتبر ہیں ۔
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کوئی بھی رافضی نہیں تھا۔اور معدودے چند کے سوا شیعہ کے نزدیک سب صحابہ رضی اللہ عنہم مطعون ہیں ۔[2]
[1] صحیح بخاری، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبہائم(حدیث:۶۰۱۱)، صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ۔ باب تراحم المؤمنین (حدیث :۲۵۸۶)۔
[2] کافی میں ہے : ابو جعفر - علیہ السلام - سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ مرتد ہوگئے تھے ‘ سوائے تین کے۔ میں نے کہا : وہ تین کون تھے۔ فرمایا : اور تین ہیں :حضرت مقداد بن اسود ؛ اورحضرت ابو ذر غفاری ؛ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم ۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد لوگوں نے پہچان لیا۔ اور فرمایا یہی لوگ تھے جن پر-ظلم کی - چکی چلی ۔ اور انہوں نے بیعت کرنے سے انکار کیا ۔ یہاں تک کہ امیر المؤمین کو زبردستی پکڑ کر لائے ‘ اور انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بیعت کی ۔‘‘ روضۃ الکافی ۸؍ ۲۴۵۔ ۲۴۶‘ روایت نمبر ۳۴۱۔
شیعہ شیوخ کا عقیدہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام مسلمان مرتد ہوگئے تھے۔ لہٰذا شیعہ عالم محمد رضا مظفرکہتا ہے:’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اورہر مسلمان نے بھی یقینافوت ہونا ہے، مجھے اب معلوم نہیں ، وہ سب مرتد ہوگئے تھے ۔ [السقیفۃ: ۱۹]
بلکہ شیعہ یہاں تک کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انسانوں میں سے صرف ایک شخص ایمان لایا تھا اور وہ شخص تھا جو اپنے ملک سے حقیقی مذہب کی تلاش میں نکلا تھا، اور وہ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ ہیں ۔‘‘ [کتاب الشیعۃ و السنۃ فی المیزان:۲۰۔ ۲۱۔]
شیعہ کے علامہ الجزائری بیان کرتے ہیں کہ ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چار افراد کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے(