کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 66
لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔‘‘[1]
جب مسئلہ ایسے ہی ہے تو اللہ تعالیٰ کے متقی اولیاء کے مابین ایمان و تقوی اورقرابت دین کا تعلق ہوتاہے ۔ اور دینی قرابت بدنی قرابت کے نزدیک بہت ہی زیادہ عظیم تر ہوتاہے۔ قلوب اور ارواح کے مابین کی قربت بدنی قرابت سے زیادہ عظیم تر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ المتقین تمام مخلوق سے افضل تھے۔ جب کہ ان اقارب میں سے کچھ لوگ مؤمن بھی ہوتے تھے اور کچھ کافر بھی ہوتے؛ نیک اور صالح بھی ہوتے اور بدکار اور فاجر بھی ۔ اگرچہ ان میں ایسے فاضل بھی تھے جیسے حضرت علی بن ابی طالب؛ حضرت جعفر؛ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ان کی فضیلت ان کے ایمان اور تقوی کی وجہ سے ہے۔اور ان کی ولایت اسی اعتبار سے ہے؛ صرف مجرد نسب کی وجہ سے نہیں ۔پس آپ کے اولیاء کا درجہ آپ کی آل سے زیادہ ہے۔اور جب ان آل پر آپ کی اتباع میں درود پڑھا جائے تو اس کا تقاضا ہر گز یہ نہیں ہے کہ آل ان اولیاء سے افضل ہوگئے ہیں جن پر درود نہیں پڑھا جاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل اولیاء تو انبیاء و مرسلین ہیں ۔ جو کہ آپ کے اہل بیت سے بہت زیادہ افضل ہیں ۔ اگرچہ وہ اس درودھ پڑہنے میں تبعاً داخل نہیں ہوتے۔پس کچھ معاملات مفضول کے ساتھ خاص ہوتے ہیں ۔ ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ فاضل سے افضل ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات ان حضرات میں سے ہیں جن پر درود پڑھا جاتا ہے؛ جیساکہ صحیحین میں ثابت ہے؛ اور یہ بات تمام لوگوں کے اتفاق و اجماع سے ثابت ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام ان تمام ازواج مطہرات سے افضل ہیں ۔
آیت تطہیر اور شیعی دعویٰ کی حقیقت:
اگرشیعہ کہیں کہ فرض کیجیے قرآن کریم سے اہل بیت کی طہارت اور پاکیزگی ثابت نہیں ہوتی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
[1] صحیح مسلم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لائے اور فرمایا سلامتی ہو تم پر مومنوں کے گھر، ہم بھی ان شا اللہ تم سے ملنے والے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے دینی بھائیوں کو دیکھیں ، صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی نہیں ہیں آپ نے فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ان لوگوں کو اے اللہ کے رسول!کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا تم دیکھو اگر کسی شخص کی سفید پیشانی والے سفید پاؤں والے گھوڑے سیاہ گھوڑوں میں مل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو ان میں سے پہچان نہ لے گا صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ جب آئیں گے تو وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا اور سنو بعض لوگ میرے حوض سے اس طرح دور کیے جائیں گے جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ دور کر دیا جاتا ہے میں ان کو پکارونگا ادھر آؤ‘ تو حکم ہوگا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد دین کو بدل دیا تھا‘ تب میں کہوں گا دور ہو جاؤ دور ہو جاؤ۔‘‘صحیح مسلم:ح: 584۔یہ صحاح ستہ کی روایت ہے۔ [الدراوی۔مزید حوالہ کے لیے دیکھیں :]مسلِم 1؍218 ِکتاب الطہارۃِ باب استِحبابِ إِطالۃِ الغرۃِ والتحجِیلِ فِی الوضوئِ۔ والحدیث فِی سننِ النسائِیِ 1؍79؛ ِکتابِ الطہارۃِ، بابِ حِلیۃِ الوضوء، سنن ابن ماجہ 2؍1439؛ ِکتابِ الزہدِ، بابِ ذِکرِ الحوضِ؛ الموطأ 1؍28 ؛ کتابِ الطہارۃِ، بابِ جامِعِ الوضوئِ، المسندِ۔ ط۔ المعارِفِ 15؍152، 18؍56 وجاء الحدیث فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ 6؍107 وقال السیوطِی ِإن الحدیث فِی مسندِ أحمد عن أنس رضِی اللّٰہ عنہ۔