کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 640
اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ : جب حدیبیہ کے موقع پر مشورہ کیا گیاکہ : کیا ان لوگوں کے اہل و عیال پر شبخون مارا جائے جنہوں نے قریش کی مدد کی یا پھر بیت اللہ کی طرف سفر جاری رکھا جائے۔ او رپھر جو کوئی اس راہ میں رکاوٹ بنے ‘ اس سے لڑائی کی جائے۔اہل علم : اصحاب تفسیر و حدیث ‘مغازی و سیر و فقہ کے ہاں یہ حدیث معروف ہے۔اسے امام بخاری و احمد بن حنبل رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔
عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں کہ:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں چودہ سو صحابہ کرام کی ہمراہی میں تشریف لے چلے ۔یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پر پہنچے تو اپنے قربانی کوجانوروں کو ہار پہنائے اور انہیں نشانیاں لگائیں اور عمرہ کا احرام باندھا۔ اور اپنے آگے آگے بنو خزاعہ کے ایک آدمی کو بطور جاسوس روانہ کیا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے احوال سے آگاہ کرے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی برابر چلتے رہے یہاں تک کہ جب مقام غدیر الاشطاط میں پہنچے تو جاسوس نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ:’’ میں اپنے پیچھے قریش کواس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی نے بہت سے قبائل اور حبشیوں کو آپ سے لڑنے کے لیے اکٹھا کیا ہے۔‘‘
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ یحیٰ بن سعید نے ابن المبارک سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ : ’’ انہوں نے بہت ساری جماعتوں کو جمع کررکھا ہے۔وہ آپ سے لڑنے کے لیے تیار ہیں ۔ وہ آپ کوروکیں گے اور بیت اللہ تک نہیں جانے دیں گے۔‘‘
تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: لوگو!مجھے اس معاملہ میں بتاؤ کہ کیا کرنا چاہئے ؟کیا میں کافروں کے اہل و عیال پر ٹوٹ پڑوں اور ان کو تباہ کردوں [ جو ہم کو کعبہ سے روکنے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اگر وہ مقابلہ کے لیے آئے تو اللہ تعالیٰ مدد گار ہے اسی نے ہمارے جاسوس کو ان کے ہاتھ سے بچایا ہے] اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کو سوئے ہوئے یا مفرور کی طرح چھوڑیں گے۔اور اگر بچ گئے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں توڑ کر رکھ دیگا۔یا پھر ہم بیت اللہ کی طرف سفر جاری رکھیں ‘ اور جو ہماری راہ میں رکاوٹ بنیں اس سے لڑیں ۔
اس موقعہ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! ہم تو صرف اللہ کے گھر کا ارادہ کرکے حاضر ہوئے ہیں کسی سے لڑنا اور مارنا یا اسے لوٹنا ہماری غرض نہیں ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلیں اگر کوئی ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بنے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’پھر اٹھو اور اللہ کا نام لے کر چلو۔‘‘
حضرت امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں نے کسی ایک کو ایسا نہیں دیکھا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ مشورہ کرتے ہوں ۔‘‘
[1] اس روایت میں ہے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جب آئندہ روز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی رؤوں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ﴾ یہ بات نبی کی شان کے مناسب نہیں ہے کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں (کافروں کو قتل کر کے)زمین میں کثرت سے خون (نہ)بہائے۔ سے اللہ عزو جل کے قول پس کھا جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے پس اللہ نے صحابہ کے لیے غنیمت حلال کر دی۔