کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 631
کوجانتا ہے۔وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ : ﴿اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ﴾ [النحل۱۲۸] ’’بیشک اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جنہوں نے تقوی اختیار کیا اور جو احسان کرنے والے ہیں ۔‘‘ اس آیت کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ یہاں پر مقصود محض علم و قدرت نہیں ‘ بلکہ وہ اپنی تائید اور نصرت کے ساتھ ان کے ساتھ ہے ۔ اور یہ کہ وہ متقین لوگوں کے لیے مخرج پیدا کرنے والا ہے۔ اور انہیں ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے ان کا وہم و گمان بھی نہ ہو۔ ایسی موسیٰ اور ہارون علیہماالسلام سے یہ فرمانا کہ : ﴿اِنَّنِیْ مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَ اَرٰی﴾ (طہ :۴۶) ’’بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں ۔‘‘ مراد یہ ہے کہ وہ قوم فرعون کے خلاف ان کا حامی و ناصر او رمددگارو مؤید ہے۔ جیسا کہ جب کوئی کسی خوف زدہ انسان کو دیکھ کر کہے کہ :’’ ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہارے دشمن کے خلاف تمہارے مددگار وحامی و ناصر ہیں ۔ ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ اپنی محبت اور رضامندی میں ان دونوں کے فعل پر خوش او ران کے موافق ہے۔اور ان کا حامی و ناصر مؤید مددگارہے۔ اس معیت میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشارکت میں یہ نص صریح ہے۔ جو صرف حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی خاص ہے ‘ اس میں مخلوق میں سے کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ہے۔ [مدح صدیقی کی منتہاء ]: یہاں پر مقصود یہ ہے کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا کہ : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ‘‘ یہ خاص معیت ہے۔ جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمن پر ان کی مدد کرنے میں اور ان کی نصرت و اعانت اور تائید میں ان کے ساتھ ہے۔ پس اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خبر دے رہے ہیں کہ اے ابوبکر! بیشک اللہ تعالیٰ میری بھی مدد کرے گا اور تیری بھی مدد کرے گا اور دشمن کے خلاف ہماری نصرت کرے گا۔اور ہماری معاونت میں رہے گا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿اِِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ﴾ [غافر۵۱] ’’بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدح و تعریف کی انتہاء ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ :حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے ایمان کی گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ‘ اور یہاں پر آیت کا تقاضا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
[1] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کیساتھ تھا؛ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے؛کہ ایک بادل کا ایک ٹکڑا گذرا آپ نے اس کی طرف دیکھا پھر فرمایا کہ تم اسے کیا نام دیتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ بادل آپ نے فرمایا کہ: مزن ۔کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کہ: عنان بھی کہتے ہو؟ کہا: جی ہاں عنان بھی۔ امام ابوداد فرماتے ہیں کہ مجھے عنان کے بارے میں صحیح یقین نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ زمین و آسمان کے درمیان کتنی مسافت ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم نہیں جانتے آپ نے فرمایا کہ بیشک زمین و آسمان کے درمیان، اکہتر، یا بہتر، یا تہتر سال کی مسافت کا فاصلہ ہے پھر اس کے اوپر دوسرا آسمان بھی اتنے فاصلہ پر ہے یہاں تک کہ آپ نے ساتوں آسمان شمار فرمائے پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک دریا ہے جس کی تہہ اور سطح کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک فاصلہ ہے پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے (بصورت)بکروں ہیں جن کے کھروں اور پیٹھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پھر ان کی پیٹھوں پر عرش الٰہی رکھا ہوا ہے جس کے اوپر اور نچلے کناروں کے درمیان ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ ہے پھر اللہ اس عرش پر مستوی ہیں ۔‘‘ سنن ابوداد: ح 1321۔ اس حدیث کو امام ترمذی [الجامع ‘ کتاب التفسیر‘ سورۃ الحاقۃ ‘ ۵؍۹۶]‘ اور ابن ماجہ نے [المقدمۃ؛ باب فیما أنکرت الجہمیۃ ۱؍۶۹پر] بھی روایت کیا ہے ۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’یہ حدیث غریب ہے ؛ امام شریک نے سماک سے اس حدیث کا کچھ حصہ موقوفاً روایت کیا ہے۔ ولید بن ابی ثور کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔