کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 612
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو جماعت سے ایک بالشت کے لیے بھی علیحدہ ہوا وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘[1] حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے امت سے علیحدگی اختیار کی ؛ یا پھر وہ ہجرت کے بعد دوبارہ بادیہ نشین ہوگیا تو قیامت والے دن اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔‘‘[2] حضرت ربعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں ان راتوں میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔تو آپ نے فرمایا: میں نے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ’’جس انسان نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی ‘ یا پھر امارت کو تبدیل کیا؛ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔‘‘[3] حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا: ایک وہ آدمی جس نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور اپنے امام کی نافرمانی کی ؛اور اسی نافرمانی کی حالت میں اس کی موت آئی ....‘‘ [4] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک فرض نماز دوسری فرض نماز تک درمیانی عرصہ کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔جمعہ سے جمعہ تک درمیانی وقت کے گناہوں کا کفارہ ہوتاہے۔ اور ایسے ہی ایک رمضان دوسرے رمضان تک ۔ درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔‘‘.... اس کے بعد فرمایا....:’’ سوائے تین چیزوں کے۔‘‘تو مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ کوئی نئی بات ہے۔‘‘ توآپ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا؛ اور خریداری کو توڑنا ؛ سنت کو ترک کرنا۔او ریہ کہ کوئی آدمی قسم پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اس کی مخالفت کرے اور اپنی تلوار سے اس سے لڑائی کرے۔ سنت ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے ۔‘‘[5] حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا:
[1] سنن الترمذي ۳؍۳۱۵۔ ورواہ الہیثمي في مجمع الزوائد ۵؍۲۱۸۔ اس روایت کے الفاظ یوں ہیں : ’’لن تجتمع أمتي علی ضلالۃ ؛فعلیکم بالجماعۃ فإن یداللہ علی الجماعۃ۔‘‘ اس طبرانی نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور کہا: ان میں سے ایک سند کے راوی ثقہ ہیں ‘اورسند صحیح ہے۔امام حاکم نے مستدرک میں ۱؍۱۱۶ میں دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ دوسری سند میں ابراہیم بن میمون عدنی ہے ۔اسے امام عبدالرزاق صنعانی نے عادل کہتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔ علامہ ذہبی کہتے ہیں : ابراہیم بن میمون کو عبدالرزاق نے عادل ہے اورابن معین نے ثقہ کہا ہے۔ [2] مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۷۔دو سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔ ایک سند صحیح اور بخاری ومسلم کی شرط پر ہے۔ [3] مستدرک الحاکم ۱؍۱۱۷۔یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر ہے۔ [4] سنن الترمذي ۴؍۲۲۵؛ کتاب الأمثال ‘باب ما جاء مثل الصلاۃ و الصیام والصدقۃ۔ قال الترمذي: حسن صحیح غریب۔ وصححہ الألباني في ’’صحیح الجامع الصغیر ۲؍۹۷۔