کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 602
سے وابستہ رہیے، اس لیے کہ جماعت پر اﷲ کا فضل و احسان ہوتا ہے۔‘‘
نیز ایک روایت میں ہے: ’’ شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے ؛اور دو سے وہ بہت دو ررہنے والا ہوتا ہے ۔‘‘[1]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ بیشک شیطان ایسے انسانوں کے لیے بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کے لیے بھیڑیا ہوتا ہے۔ اوربھیڑیا ریوڑ سے بچھڑی ہوئی بکری کو ہی شکار بناتا ہے۔‘‘[2]
آپ نے فرمایا:’’سواد اعظم کا دامن نہ چھوڑیے، جو جماعت سے الگ ہوا وہ الگ ہو کر جہنم میں جائے گا۔‘‘[3]
تیسری وجہ: ....یہ بھی کہا جائے کہ : یہ امر بھی قابل غور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت پر امت کا جو اجماع ہوا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت پر نہیں ہو سکا تھا۔ ایک تہائی بلکہ اس سے کم و بیش لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت میں شرکت نہیں کی تھی۔بلکہ انہوں نے آپ سے جنگ کی۔[بہت سے اکابر نے علیحدگی اختیار کرلی تھی]۔ اور ایک تہائی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں ساتھ نہیں دیا۔ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ کی بیعت ہی نہیں کی۔اور جن لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی ؛ ان میں سے بھی بہت سارے ایسے لوگ تھے جنہوں میں جنگوں میں آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ اگر امت کے چند افراد کی عدم شرکت سے کسی شخص کی خلافت میں قدح وارد ہوتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت جرح و قدح کی زیادہ مستحق ہو گی۔
اگریہ کہا جائے کہ : جمہور امت نے آپ سے جنگ نہیں کی ۔ یا یہ کہا جائے کہ : اہل شوکت اور جمہور نے آپ کی بیعت کرلی تھی ؛ تو اس صورت میں بھی یہی دلیل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
٭ اگر شیعہ کہیں کہ امامت علی رضی اللہ عنہ نص سے ثابت ہے، لہٰذا اجماع کی ضرورت نہ تھی۔‘‘ تو ہم کہیں گے کہ:’’ قبل ازیں ذکر کردہ نصوص سے صراحۃً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہم بتا چکے ہیں اور آگے بھی اس کا ذکر آئے گا [کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اجماعاً آپ کی بیعت کی تھی اور آپ کو خلیفۂ رسول کا لقب بخشا تھا]۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور میں خلیفہ نہیں تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے اجماع کی ضرورت ہی نہ تھی؛ بلکہ صحیح اور صریح نصوص کی روشنی میں آپ کی خلافت کی صحت ثابت ہوتی ہے۔ اور اس کے خلاف کا انتفاء ثابت ہوتا ہے۔
چوتھی وجہ:....ان سے کہا جائے گا کہ : خلافت صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں دو طرح سے گفتگو کی جا سکتی ہے:
[1] معجم کبیر طبرانی(۱۲؍۴۴۷)، الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ(ح:۲۱۶۶)، لیکن اس میں ’’جماعت سے وابستہ رہیے‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں ، وہ دوسری روایت (ح:۲۱۶۵) میں ہیں ۔امام ترمذی فرماتے ہیں :’’ یہ حدیث غریب ہے۔ ابن عباس سے ہم تک یہ روایت صرف اس ایک سند سے پہنچی ہے۔ اسے البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے (صحیح الجامع الصغیر ۶؍۳۳۶)۔ سنن نسائی میں کتاب تحریم الدم ‘ باب : قتل من فارق الجماعۃمیں ہے :’’ حضرت عرفجہ بن شریح الاشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’ میرے بعد بعض برے امور ہوں گے۔ پس جس کو دیکھو کہ وہ جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے؛ یا امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے قتل کردو ؛ خواہ وہ کوئی بھی ہو۔بیشک اللہ تعالیٰ کاہاتھ جماعت پر ہوتا ہے ؛ اور شیطان جماعت سے علیحدہ ہوکر چھلانگیں لگانے والے کے ساتھ ہوتا ہے ۔‘‘ [سنن الترمذی۳؍۳۱۵۔]