کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 593
کہ جب کوئی قوم یہ کہے کہ ہم زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں ، مگر ہم فلاں امام کو نہیں دیں گے، تو ان کے خلاف صف آرائی جائز نہیں ۔اور یہ بھی علم میں ہونا چاہیے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جنگ کرنے کی وجہ زکواۃ کی ادائیگی کا بالکل انکار تھا۔یہ وجہ نہیں تھی کہ وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کوزکواۃ ادا نہیں کررہے۔
بلکہ اگریہ شیعہ مصنف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کرنے والوں کو یہود ومجوس اور نصاری کے برابر کرتا؛ تو یہ بھی ایسا ہی ہوتا جیسے وہ بنو حنیفہ کو شمار کررہا ہے۔بلکہ بنو حنیفہ بعض وجوہات کی بنا پر یہود و نصاری اور مجوس سے بڑے کافر تھے۔اس لیے کہ وہ پیدائشی کافر ہیں اور یہ مرتدکافر تھے۔پیدائشی کافر کو جزیہ پر برقرار رکھا جاسکتا ہے؛جب کہ انہیں جزیہ پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔اور ان لوگوں کے پاس کتاب یا شبہ کتاب موجود ہے ‘ اور ان کے پاس کوئی کتاب نہیں ۔یہ لوگ ایک جھوٹے مفتری کے پیروکار تھے؛ لیکن ان کا مؤذن یہ نداء لگایا کرتا تھا:
’’ أشہد أن محمدًا و مسیلمہ رسولا اللّٰہ۔‘‘
’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اور مسیلمہ دونوں اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘
اس طرح یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسیلمہ کذاب کو برابر کردیتے تھے۔
مسیلمہ کذاب کا معاملہ تمام ان کتابوں میں مشہور و معروف ہے جن میں ایسے واقعات ذکر کیے جاتے ہیں ؛ مثلاً کتب تفسیر؛ حدیث؛ مغازی؛ فتوح؛ فقہ اور اصول اور علم کلام وغیرہ۔حتی کہ تاریخ اسلام میں یہ واقعہ اس قدر مشہور ہے کہ پردہ نشینان حرم بھی اس سے آگاہ ہیں ۔[ پھر شیعہ مصنف کی اس واقعہ سے بے خبری بڑی حیرت کی موجب ہے]۔تاریخی واقعات جمع کرنے والوں نے اس مسئلہ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں :سیف بن عمر رضی اللہ عنہ کی کتاب الرِدّۃ اور الواقدی کی کتاب الردۃ؛ اوردوسرے مصنفین کی کتابیں جن سے سب لوگ واقف ہیں ،جن میں اہل ارتداد کے ساتھ جنگوں اور ان واقعات کا ذکر ہے۔ ایسے واقعات مغازی رسول اور فتوح شا م جیسی کتابوں میں بھی موجود ہیں ۔[ مگر شیعہ ان کتب سے بھی نابلد ہے، ورنہ بنو حنیفہ کے ارتداد سے جاہل نہ رہتا]۔
ان میں سے بعض واقعات ایسے ہیں جو کہ خواص و عوام کے ہاں تواتر کے ساتھ مشہور ہیں ؛ اور بعض واقعات ثقہ راویوں نے نقل کیے ہیں ۔ او ربعض ایسی مراسیل اور منقطع اخبار ہیں جن کے سچ یا جھوٹ ہونے کا احتمال ہے؛ اوربعض روایات کے متعلق صاف واضح طورپر معلوم ہے کہ یہ جھوٹے اور من گھڑت واقعات ہیں ۔
لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مسیلمہ کذاب سے قتال اور جنگیں ایسے مشہور ہیں جیسے ہرقل ‘ قیصر اور کسری اور دیگر ان اقوام کے ساتھ جنگوں کے واقعات مشہور ہیں جن سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عمر فاروق یاحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے جنگیں کیں ۔ اورجیسے ان مشرکین و یہود لوگوں کے کفر کا تواتر کیساتھ مشہور ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں لڑیں مثلاً : عتبہ؛ ابی بن خلف ؛ حیی بن اخطب وغیرہ ۔اور جیسے عبداللہ بن ابی ابن سلول اور دیگر کے نفاق کا تواتر کے ساتھ مشہورہے۔
[1] علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سیرت نبویہ ۴؍۹۷ پر لکھا ہے: ’’ امام سہیلی اور دوسرے سیرت نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ : اس رحال بنوعنفوہ کا اصل نام نہار تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا ‘اور کچھ قرآن بھی سیکھا؛ اور ایک مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر گزر ہوا تو یہ تین افراد بیٹھے ہوئے تھے: فرات بن حیان ‘ ابوہریرہ اور رحال بن عنفوہ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم میں سے ایک آدمی داڑھیں جہنم میں فلاں اور فلاں سے بڑی ہیں ۔‘‘ پس یہ دونوں مخلص صحابی ڈرنے لگ گئے ۔ یہاں تک کہ رحال بھی مسیلمہ کذاب کے ساتھ مرتد ہوگیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹی گواہی دی کہ آپ نے مسیلمہ کو اپنے ساتھ نبوت میں شریک کرلیا ہے۔اور جو کچھ قرآن اسے یاد تھا اسے لوگوں میں سنا کر مسیلمہ کی طرف منسوب کرنے لگا۔اس طرح بنی حنیفہ میں بہت بڑا فتنہ پیدا ہوا۔ جنگ یمامہ کے موقع پر زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا ۔