کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 59
جائے کہ واقعی شیطان دوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر تک پہنچا تھا او رشہابیے نے اس کا پیچھا کر کے جلادیا تو اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پھر بھی کوئی کرامت نہیں ہے ۔ حالانکہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: [اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’پانچویں دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے: ﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ [الأحزاب۳۳] ’’ اے اہل بیت !اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرکے اچھی طرح پاک صاف بنا دے۔‘‘ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ:’’ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں تلاش کیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ہیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں پہنچ گئیں ، آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو بائیں جانب اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دائیں طرف اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے سامنے بٹھایا پھر ان پر اپنی چادر تان لی اور فرمایا: ﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ ’’ اے اہل بیت نبی اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرکے اچھی طرح پاک صاف بنا دے۔‘‘ او رپھرفرمایا: ’’اے اﷲ ! یہ میرے سچے اہل بیت ہیں ۔‘‘ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے گھر میں تشریف فرما تھے ۔توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پتھر کی ایک ہانڈی لیکر آئیں جس میں حریرہ تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کو بلا لاؤ۔تو آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا لائیں ۔یہ سب لوگوں گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں بیٹھ کر حریرہ کھانے لگے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک خیبری چادرپر بیٹھے ہوئے تھے۔اور میں اپنے حجرہ میں کھڑی نماز پڑھ رہی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ [1]
[1] دراوی کہتا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سورت کے نزول کے وقت بہت کم عمر تھے؛ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پارہے تھے ۔ آپ کا علیحدہ سے کوئی گھر نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ کے دوسرے لے پاک جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اولاد تھے وہ بھی رہا کرتے تھے ؛ اور آپ کا آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ہوا کرتے تھے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہ ستارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد ابو طالب کے گھر پر گرا تو پھر ان کے دوسرے بھائی بھی مسلمان تھے ؛ جو آپ سے بڑے بھی تھے ؛ تو ان میں سے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اور امام ہونے کے لیے کیسے چنا گیا ؟ اور اگر یہ ستارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی گھر پر گرا تھا تو حضرت زید بن حارثہ ؛ حضرت ہالہ اور دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر آپ کومتعین امام اور وصی مقرر کرنے کے لیے کوئی خاص دلیل ہونی چاہیے ؛ وگرنہ یہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے ؛ کوئی بھی دوسرا اس کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ لیکن کیا کریں رافضی بیچارے عقل و علم سے بالکل کورے ہوتے ہیں ؛ ان کو تو ڈھنگ سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔ [دراوی؛ کشمیری]