کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 58
کام ہے۔ اور ایسے واقعات کو صرف ایسے لوگوں میں ہی پذیرائی حاصل ہوسکتی ہے جو لوگوں میں سب سے جاہل اور احمق ہوں ‘ اور علم ومعرفت کے لحاظ سے بالکل تہی دامن ۔
پانچویں بات: سورت نجم اسلام کے ابتدائی دور میں ناز ل ہوئی تھی۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ بالکل بچے تھے ۔ بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے؛ اور نہ ہی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی ہوئی تھی؛ اس وقت نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی۔ نہ ہی زکوٰۃ اور حج اور رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے۔ اورنہ ہی اسلام کے عام قواعد مستحکم ہوئے تھے۔
اگر ان لوگوں کے دعوی کے مطابق امامت کے لیے وصیت کا واقعہ غدیر خُمّ کے موقع پر پیش آیا تو پھر اس سورت کے نزول کے وقت وصیت کرنے کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے؟ [1]
چھٹی بات :....مفسرین کرام رحمہم اللہ کا اس کے خلاف پر اتفاق ہے ۔ سورت نجم میں جن ستاروں کی قسم اٹھائی گئی ہے وہ یا تو آسمان کے ستارے ہیں یا پھر قرآن کے ستارے ۔ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ مکہ میں کسی کے گھر میں ستارہ ٹوٹ کر گرا تھا۔
ساتویں بات:....جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کہے : ’’آپ گمراہ ہوگئے ‘‘ تو وہ کافر ہوجاتا ہے۔ اور کفار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہادتین کے اقرار اور اسلام میں داخل ہونے سے پہلے فروعی احکام کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔
آٹھویں بات:....اگرستارے کا ٹوٹنا آسمان سے گرنے والی [بجلی] آگ تھی؛ تو پھر کسی کے گھر میں بجلی کا گرنا اس کی کرامت نہیں ہوتی۔اور اگر یہ ستارہ آسمانی ستاروں میں سے تھا تو یہ ستارے اپنے فلک سے باہر نہیں نکلتے۔اور اگریہ کوئی شہابیہ تھا تو شہابیے شیاطین کومارنے کے لیے چھوڑے جاتے ہیں ۔شہابیے زمین پر نازل نہیں ہوتے ۔ اگر یہ مان لیا
[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام بالکل درست ہے ۔ اعلان نبوت کے پانچویں سال بیت اللہ میں تلاوت قرآن کا واقعہ پیش آیا ؛ اور آپ نے سورت نجم کی آیات تلاوت کیں ؛قرآن کی اثر آفرینی کا یہ عالم تھاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے :﴿ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ﴾ اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی کی)عبادت کرو ۔‘‘ مسلمانوں کے ساتھ کافر بھی بے اختیار سجدہ ریز ہوگئے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے جتنے لوگ بیٹھے تھے(خواہ مسلمان تھے یا مشرک)سب نے سجدہ کیا بجز ایک شخص امیہ بن خلف کے، اس نے مٹھی بھر مٹی لی (منہ سے قریب کی) پھر اس پر سجدہ کیا....الخ۔ (بخاری، کتاب التفسیر) اسی موقعہ سے متعلق مشہور ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں :﴿ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى () وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى ﴾ تو شیطان نے آپ کی آواز جیسی آواز میں آگے یہ الفاظ پڑھ دئیے۔(تِلک الغرانِیق العلی وإن شفاعتھن لترتجی)’’یہ تینوں بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت متوقع ہے۔‘‘ اور بعض کے نزدیک یہ واقعہ یوں ہوا کہ جب قریشیوں نے بھی مسلمان کے ساتھ مل کر سجدہ کر لیا تو بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ ہم سے یہ کیا حماقت سرزد ہوگئی تب انہوں نے یہ الفاظ اپنی طرف سے گھڑے اور کہہ دیا: کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے اور سمجھے کہ اب وہ بھی ہمارے دین کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔ اس لیے ہم نے ان کے ساتھ مل کر سجدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ جو کچھ بھی تھا، یہ خبر یا افواہ اتنی مشہور ہوئی کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں نے، جنہوں نے رجب ۵ نبوی میں ہجرت کی تھی۔ جب ایسی صلح یا سمجھوتے کی خبر سنی تو شوال ۵ نبوی میں مکہ واپس آگئے۔ مگر مکہ مکرمہ آکر انہیں معلوم ہواکہ یہ تو سب کچھ ایک افسانہ تھا۔ چنانچہ وہ دوبارہ ہجرت کرکے حبشہ کی طرف واپس چلے گئے۔[دراوی ‘کشمیری]