کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 577
سنائی۔ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں انتہائی حد اورقطعی حجت ہے۔ ٭ مزیدار بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر امیر بنانے کا واقعہ اس فرمان کے بعد کا ہے: ((أما ترضی اَنْ تَکون مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی۔)) ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے لیے بلحاظ منزلت ایسے ہی ہو جیسے ہارون حضرت موسیٰ کے ساتھ ۔‘‘ ٭ مقام حیرت ہے کہ شیعہ مصنف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت و سوانح اور عصر و عہد کے واقعات سے نابلد محض ہونیکے باوجود علم و فضل کا دعوے دار ہے۔اوریہ ان متواتر واقعات سے بھی جاہل اور لاعلم ہے جنہیں وہ لوگ بھی جانتے ہیں جنہیں علوم سیرت سے ادنیٰ سی شناسائی ہوتی ہے۔مگریہ ایسے واقعات تلاش کرتے ہیں اور پھر ان میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کرتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگوں کو خاموش رہنا زبان سخن دراز کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔مگر کیا کریں اس رافضی مصنف نے بھی وہی کچھ کیا ہے جو کہ اس کے ان اسلاف نے کیا ہے جن کا یہ مقلد ہے۔اس نے ان کے کلام کی کوئی تحقیق نہیں کی۔ اور نہ ہی ان چیزوں کا مراجعہ کیا ہے جو اہل علم کے ہاں صرف معلوم ہی نہیں بلکہ متواتر کی حد تک معروف ہیں ۔اور خاص و عام انہیں جانتے ہیں ۔[ لیکن جب اﷲتعالیٰ نے اس کے دل کو اندھا کردیا ہو اور اس کی نیت خراب ہو تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ وہ مصنف کٹر شیعہ ہے؛ اوراپنے اسلاف کی راہ پر گامزن ہے جو کہ تقیہ اور کذب و افتراء سے عبارت ہے]۔ فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا] [اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:بارھواں سبب : ’’عمر نے کہا تھا کہ محمد فوت نہیں ہوئے، یہ بات ان کے قلیل العلم ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حاملہ عورت کو سنگ سار کرنے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، تب عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتا۔ان کے علاوہ دیگر کئی احکام و مسائل ہیں جن میں آپ نے غلطی کی اور کئی رنگ بدلے ۔‘‘ [جواب]:پہلی بات: صحیحین میں ثابت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اُمَمِ سابقہ میں کچھ لوگ مُلہم ہوا کرتے تھے۔ میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں ارشاد نہیں فرمائی۔ اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’حالت خواب میں مجھے دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ سیری کا اثر میرے ناخنوں میں ظاہر ہونے لگا جو دودھ بچ گیا وہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ نے دریافت کیا: پھر آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی؟ فرمایا:’’ دودھ سے علم مراد ہے۔‘‘ [البخاری(۳۶۸۱) مسلم (۳۶۹۱) [قبل ازیں بھی دلائل و براہین کی روشنی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علمی مقام واضح کر چکے ہیں کہ] حضرت عمر رضی اللہ عنہ
[1] اس میں دوسری مصلحت یہ تھی کہ سورۂ توبہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی مدح و ستائش پر متضمن ہے نبی کریم چاہتے تھے کہ اس ثناء کا اظہار حج کے موقع پر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زبان سے ہوتا کہ اﷲ کے دشمن ہمیشہ کے لیے شرم سار ہوں اور جب بھی اس پر غوروفکر کریں ان کا مصنوعی دین دھڑام سے نیچے گر پڑے۔ متقدمین شیعہ میں سے اﷲ کے دشمن اﷲ شیطان الطاق نے بدحواسی کے عالم میں کہا کہ یہ الفاظ﴿ ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ﴾ اﷲ کے فرمودہ نہیں ہیں ۔ جیسا کہ مشہور ادیب جاحظ نے اپنے استاد ابراہیم نظام وبشربن خالد سے سن کر بیان کیا۔ (دیکھیے الفصل امام ابن حزم: ۴ ؍ ۱۸۱)۔ متاخرین شیعہ میں سے طاغوت الکاظمیہ نے حواس باختہ ہو کر کہا کہ آیت قرآنی ﴿ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہما کو شامل نہیں ، بلکہ یہ خالص الایمان لوگوں کے لیے مختص ہے۔ ( دیکھیے کاظمی کی کتاب احیاء الشریعۃ فی کتب الشیعۃ ،ص:۶۳۔۶۴) سیدنا علی کو سورۂ توبہ دے کر مکہ بھیجنے کے واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ و علی ایک صف میں تھے اور اعداء صحابہ ان کے مدمقابل دوسری جانب، ان دونوں کا اتصال دین و دنیا میں کسی طرح ممکن نہیں ۔(علامہ خطیب) درحقیقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کو جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا تھا اس وقت ابھی سورہ توبہ کی یہ آیات نازل نہیں ہوئی تھیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ابھی اثنائے سفر میں ہی تھے کہ سورہ توبہ کی چالیس آیتیں نازل ہوئیں جس کا اعلان براء ت حج میں ہونا ضروری تھا، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے ہی روانہ کردیا تاکہ اعلان بروقت ہو سکے، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت کو توڑا نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا، بلکہ امارت حج بدستور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہی اور سیدنا علی کو ان کے ماتحت رہنے دیا۔