کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 304
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے علی رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ میں اور علی رضی اللہ عنہ بروز قیامت اپنی امت پر حجت ہوں گے۔‘‘
٭ معاویہ رضی اللہ عنہ بن حَیدہ القُشیری کہتے ہیں :
’’ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا:’’ جو شخص آپ سے عداوت رکھتے ہوئے مر جائے تو پرواہ نہ کریں وہ یہودی مرا ہے یا نصرانی۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]
[جواب]:اس کے جواب میں کئی پہلو ہیں :
أولاً: ....ہم شیعہ سے ان روایات کی صحت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔یہ برسبیل تنزل کے ۔اس لیے کہ خطیب خوارزمی کا کسی روایت کو نقل کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کلام کارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہونا بھی ثابت ہو گیا ۔یہ تو اس صورت میں ہے اگر کسی کو یہ علم نہ ہو کہ اس کی جمع کردہ کتاب میں کتنی ہی جھوٹی اورمن گھڑت روایات ہیں ؛ کیونکہ اس کی تصانیف موضوعات کا پلندہ ہیں ؛جنہیں دیکھ کرایک حدیث دان شخص حیرت کا اظہار کرنے لگتا ہے اور بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ’’سبحانک ہذا بہتان عظیم۔‘‘
ثانیاً:....ہر وہ انسان جسے حدیث سے شغف ہو ‘وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہیں ۔
ثالثاً:....وہ حقیقت شناس شخص جو واقعات سے آگاہ ہو اور آثار و اقوال میں مہارت رکھتا ہو اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس قسم کی احادیث کذاب راویوں نے عصر صحابہ وتابعین کے اختتام کے بعد وضع کر لی تھیں ۔ان روایات میں صحابہ و تابعین کاذکر کہاں ہے؟ اور کس کتاب میں انہوں نے یہ روایت کیا ہے ؟پس یہ بات اضطراری طور پر معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایات خیر القرون کے بعد اپنی طرف سے گھڑکر[ ان کی طرف منسوب کر]لی گئی ہیں ۔
رابعاً:....ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ان موضوع روایات کی نسبت اس بات کا قطعی وحتمی علم حاصل ہے کہ مہاجرین و انصار اﷲ و رسول کو چاہتے تھے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کو چاہتے تھے۔ ہم بہ اذعان و ایقان جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باتفاق صحابہ آپ کے بعد امام قرار پائے تھے، پھر ہم ان یقینی اور متواترروایات کو چھوڑ کر شیعہ کی ان روایات کاذبہ کی بنا پر کس طرح جھٹلا سکتے ہیں جو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ انہیں خبرواحد قراردیاجاسکے۔ خصوصاً جب کہ ہمیں ان روایات کے کاذب ہونے کا بخوبی علم بھی ہے ۔بلکہ اہل علم محدثین کا اتفاق ہے کہ یہ روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بڑا جھوٹ ہیں ۔اس لیے کہ یہ روایات کسی معتمد کتاب میں باسناد صحیح موجود نہیں ۔بلکہ تمام محدثین انہیں جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے چلے آئے ہیں ۔
[شیعہ مرویات ناقابل اعتماد]:
خامساً:....اس پر مزید یہ کہ قرآن کریم جگہ جگہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے مہاجرین و انصار سے رضا
[1] اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ علماء کے نزدیک ایمان امام کی معرفت اور اس سے محبت کا نام ہے۔ اس لیے انہوں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: ’’ علی رضی اﷲ عنہ کی محبت ایسی نیکی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی برائی نقصان دہ نہیں ہے۔اور بغض علی ایسی برائی ہے جس کی موجود گی میں کوئی نیکی بھی فائدہ مند نہیں ہے۔‘‘
[الفضائل؍ شاذان بن جبرائیل القمی: ۹۶( فی فضائل الامام علی علیہ السلام )۔]کتاب الفضائل ص95؛ فی بعض فضائل الإمام علی ۔کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ1؍123؛ فی فضل مناقبہ لأبی الحسن علی بن عیسی الأربلي]
نیز آپ کی طرف یہ بھی منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ( حالانکہ آپ اس الزام سے بری ہیں ):’’ـ اگر تمام مخلوق علی بن أبی طالب کی محبت پر جمع ہوجاتی تو اﷲ تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ فرماتے۔‘‘ [الفضائل؍ص110 شاذان بن جبرائیل( خبر المقدسی ) ]
آپ پر افتراء پردازی کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ اگلے اور پچھلے لوگوں میں سے صرف وہی شخص جنت میں داخل ہوگا جو علی سے محبت کرتا ہوگا۔ اگلے اور پچھلے لوگوں میں سے جس نے بھی علی سے نفرت کی وہ جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘
[علل الشرائع؍ ابوجعفر محمد بن علی بن بابویہ القمی: ۱؍ ۱۶۲، حدیث نمبر:ـ ۱( باب العلۃ التي من أجلھا صار علی بن أبی طالب قسیم اﷲ بین الجنۃ والنار )۔ الأمالی للطوسی ص330 ح107 ؍ المجلس الحادی عشر؛کشف الغمۃ 2؍23 فصل فی ذکر مناقب شتی وأحادیث متفرقۃ ]
اور ایک بہتان یہ بھی تراش کر آپ کی جانب منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ اولین و آخرین میں سے جنت میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہوں گے ۔ اور اولین و آخرین میں سے صرف وہی لوگ جہنم میں داخل ہوں گے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہوں گے ۔‘‘ [علل الشرائع ۱؍۱۶۲؛ ح: ۱؛ باب ۱۳۰۔’’العلۃ التي من أجلہا صار علی بن ابی طالب قسیم اللہ بین الجنۃ والنار۔ مختصر بصائر الدرجات ص ۴۸۵؛ ح: ۵۷۶۔ بحار الأنوار ۳۹؍ ۱۹۵۔ ح: ۵؛ باب أنہ قسیم الجنۃ والنار وجواز الصراط]