کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 301
اس باب میں احادیث کثرت تعداد کی وجہ سے شمار سے باہر ہیں ‘ ان کی اسناد کثرت کے ساتھ ہیں ۔ اور یہ احادیث آپ کی افضلیت پر اور امامت کے استحقاق پر دلالت کرتی ہیں ۔‘‘ [انتہی کلام الرافضی]
[جواب]:اس کے جواب کے کئی پہلو ہیں :
٭ پہلا جواب : ہم ان سے ان روایات کی صحیح اسناد کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ہائے افسوس ! انہیں یہ اسناد کہاں سے میسر ہوں گی؟
٭ دوسرا جواب : ’’شیعہ کا یہ کہنا کہ : امام احمد نے روایت کیا ہے ۔‘‘ ہم کہتے ہیں کہ: امام احمد رحمہ اللہ کی کتاب مسند احمد اور فضائل صحابہ مشہور ہیں ۔فضائل صحابہ میں آپ نے وہ احادیث نقل کی ہیں جو مسند میں نہیں لاسکے۔ ان میں ضعیف روایات بھی ہیں ؛ اس لیے یہ روایات مسند میں نقل کرنے کے قابل نہیں تھیں ۔اس لیے کہ یہ روایات یا تو مرسل تھیں ‘ یا پھرمرسل نہیں تھیں مگر بہت ہی ضعیف تھیں ۔ پھر اس کتاب میں آپ کے بیٹے عبد اللہ نے بھی کچھ روایات زیادہ کی ہیں ۔ پھر ان کے بعد ان کے بیٹے کے شاگرد قطیعی نے بھی اس میں کچھ روایات اپنے شیوخ سے زیادہ کی ہیں ۔ اہل معرفت محدثین کا اتفاق ہے کہ اس میں موضوع احادیث بھی موجود ہیں ۔
پس یہ رافضی اور اس کے امثال دوسرے شیوخ الرافضہ جہالت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں ۔ وہ اس کتاب سے روایت کرتے ہوئے یہ تمیز نہیں کرپاتے کہ عبد اللہ اور قطیعی کی روایات کونسی ہیں ؟ وہ ان کو بھی امام احمد رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔امام احمد اور قطیعی کے شیوخ کے مابین تمیز بھی نہیں کرپاتے ۔ پھر ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ مسند میں جو بھی روایت ہے وہ امام احمد کی ہی روایت ہے۔ میں نے ان کی بہت ساری کتابوں میں دیکھا ہے کہ ایسی روایات امام احمد رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جو امام احمد نے کبھی بھی سنی ہی نہ ہوں گی ۔ جیسا کہ ابن بطریق اور ‘‘الطرائف ‘‘ کے مصنف کے علاوہ دوسروں نے بھی کیا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی جہالت ہے۔ یہ ان کے من گھڑت جھوٹوں کے علاوہ ہے؛ ان کے جھوٹ تو بے شمار اور لاتعداد ہیں ۔
٭ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ تو امام احمد رحمہ اللہ کے کسی روایت کو نقل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صحیح بھی ہے ؛ اوراس پر عمل کرنا واجب ہے۔بلکہ امام احمد رحمہ اللہ نے بہت ساری روایات ایسی نقل کی ہیں جن کے جمع کرنے کا مقصد لوگوں کو ان کی پہچان کروانا اور ضعف بتانا ہوتا ہے۔آپ کے کلام اورجوابات میں یہ بات اتنی وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ اس میں مزید کسی تفصیل یا بیان کی ہرگزکوئی ضرورت نہیں ۔خصوصاً اس عظیم الشان اصل کے باب میں ۔ مگر یہ روایت ہر گز امام احمد رحمہ اللہ نے ذکر نہیں کی، بلکہ القطیعی نے کتاب الفضائل میں اس کا اضافہ کیا ہے۔اس نے یہ روایت نصر بن علی الجھضمی سے ؛ اس نے علی بن جعفر سے ‘ اس نے اپنے بھائی موسیٰ بن جعفر سے نقل کیا ۔ دوسری حدیث کو امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ الموضوعات‘‘ میں موضوع قراردیا ہے۔اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ روایت من گھڑت اور جھوٹ ہے ۔‘‘
[1] الحدیث عن علِیِ بنِ حسین عن أبِیہِ عن جِدِہِ فِی کِتابِ:’’فضائِلِ الصحابۃ ‘2؍963 ؛ برقم 1185؛ بِألفاظ مقارِبۃ وقال المحقِق فِی تعلِیقِہِ: ’’ فِی ِإسنادِہِ علِی بن جعفرِ بنِ محمد الصادِقِ۔‘‘ لم یذکر بِجرح ولا تعدِیل، والباقون ثِقات۔ قال الذہبِی فِی المِیزانِ(3: 117) فِی ترجمۃِ علِی:’’ ما ہو مِن شرطِ کِتابِی، لأِنِی ما رأیت أحدا لیَّنہ، ولا من وثقہ۔ ولکِن حدیث منکر جِدا، أما صححہ التِرمِذِی ولا حسنہ، ثم ذکر الحدیث۔ وقال فِی سِیرِ النبلاِء : إِسناد ضعِیف والمتن منکر، وأخرجہ التِرمِذِی (5: 641) وقال: ہذا حدیث حسن غرِیب لا نعرِفہ إِلا مِن حدیثِ جعفرِ بنِ محمد ِإلا مِن ہذا الوجہِ۔ وقد رأینا أن الذہبِی أنکر أن یکون التِرمِذِی حسنہ۔قال أحمد شاکِر فِی تعلِیقِہِ عل المسندِ(2: 25) : والتحسِین ثابِت فِی بعضِ نسخِ التِرمِذِیِ دون بعض۔