کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 286
تواس کے جواب میں کہا جائے گا: ’’ تصور کیجیے ! معاملہ بالکل ایسے ہی ہے۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ خرچ بھی کرتے تو آپ اسی جگہ پر خرچ کرتے جہاں پر خرچ کرنے کا حکم انہیں بارگاہ رسالت سے ملتا۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس نعمت کی جزاء دینے کی گنجائش موجود تھی۔ تو آپ کا خرچ کرنا مجازات سے ایسے خالی نہیں ہوسکتا جیسے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انفاق فی سبیل اللہ مجازات سے خالی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسروں سے بڑھ کر متقی ہیں ‘ مگر اس مذکورہ وصف میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ زیادہ کامل تھے۔ حالانکہ آیت کے الفاظ میں یہ بات واضح ہے کہ مخلوق میں سے کسی ایک کے پاس بھی آپ کے احسانات کا بدلہ نہیں ۔ یہ وصف اسی انسان کا ہوسکتا ہے جو لوگوں کو ان کے احسانات پر بدلہ دیتا ہو‘ اور مخلوق میں سے کسی ایک کا کوئی احسان اس پر باقی نہ رہا ہو۔ یہ وصف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یوں پوری طرح سے منطبق ہوتا ہے کہ مہاجرین میں سے کوئی دوسرا انسان آپ کے برابر نہیں ہوسکتا ۔ بیشک مہاجرین -حضرت عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اور دوسرے صحابہ کرام - میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں تھا جو اسلام سے قبل اور اسلام کے بعد لوگوں کے ساتھ اپنی جان و مال سے اس قدر احسان کرنے والا ہوجس قدر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ احسان کیا کرتے تھے۔آپ لوگوں میں مألوف و محبوب تھے ؛ لوگوں کی خیرخواہی میں ان کیساتھ مدد کیا کرتے۔جیسا کہ مکہ سے آپ کی ہجرت کے وقت اس علاقہ کے سردار ابن دغنہ نے کہا تھا: ’’اے ابوبکر! آپ جیسے لوگوں کو نہ ہی نکالا جاسکتا ہے‘ اور نہ ہی وہ خود نکل سکتے ہیں ۔بیشک آپ کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ؛ مہمان نوازی کرتے ہیں ؛ ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں اور حق کے کاموں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔‘‘ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے حضرت عروۃ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا:’’ تو لات کی شرم گاہ چوس! کیا ہم بھاگ جائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں ہی اکیلا چھوڑ دیں گے ؟ تو اس نے جواب میں کہا: اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا میں بدلہ نہیں دے سکا ؛ تو میں ضرور تمہیں اس کا جواب دیتا ۔‘‘ اسلام سے قبل اور اس کے بعد کسی ایک بھی ایسے انسان کے بارے میں بھی علم نہیں ہوسکا جس کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کوئی احسان ہو۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے آپ ہی اس بات کے حق دار تھے کہ ان الفاظ میں آپ کی مدح سرائی کی جائے: ﴿وَ مَالِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰی﴾ ’’ اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔‘‘ آپ اس آیت کے مقصود میں داخل ہونے میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیاوی احسانات ہیں ۔ مسند أحمد بن حنبل میں ہے : ’’ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے کوڑا گر جاتا تو آپ کسی کو نہیں کہتے تھے کہ یہ اٹھاکر مجھے دیدو ۔اور آپ فرمایا کرتے تھے : ’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ میں کبھی بھی لوگوں سے کسی بھی چیز کاسوال نہ کروں ۔‘‘
[1] تفسیر قرطبی میں ہے: حضرت عطا اور ضحاک رحمہما اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ مشرکوں نے حضرت بلال کو اذیتیں دیں اور حضرت بلال احد، احد، کہتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا، احد تجھے نجات دے گا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اے ابابکر رضی اللہ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اللہ کی وجہ سے عذاب دیاجاتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ بھانپ گئے اور اپنے گھر چلے گئے سونے کا ایک رطل لیا اور اسے امیہ بن خلف کے پاس لے گئے اس سے پوچھا کیا توبلال کو میرے ہاتھ بیچتا ہے ؟ اس نے کہا، ہاں ۔ حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو خرید لیا اور اسے آزاد کردیا مشرکوں نے کہا، حضرت ابوبکر نے بلال کو آزاد نہیں کیا مگر اس لیے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر کوئی احسان ہوگا۔ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی کسی کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کوئی احسان نہیں کہ اس کا بدلہ دیاجتا بلکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ اپنے بزرگ وبرتر کی رضا کے لیے کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے امیہ بن خلف اور ابی بن خلف سے حضرت بلال کو ایک غلام اور دس اوقیہ میں خریدا اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى﴾’’بیشک تمہاری کاوشیں مختلف ہیں ۔‘‘ سعید بن مسیب نے کہا ہے جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف سے کہا، کیا توبلال رضی اللہ عنہ کو میرے ہاتھ بیچتا ہے اس نے کہا ہاں میں اسے نسطاس کے بدلے بیچتا ہوں نسطاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کاغلام تھا جس کے پاس دس ہزار دینار، غلام، لونڈیاں اور مویشی تھے وہ مشرک تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے مسلمان ہونے پر برانگیختہ کیا کہ وہ اسلام قبول کرے توجتنا مال اس کے قبضہ میں ہے سب اسی کا ہوگا؛ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نسطاس حضرت بلال کے بدلے میں بیچ دیا۔ مشرکوں نے کہا، حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کیساتھ یہ معاملہ کسی احسان کی وجہ سے کیا ہے جوحضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان پر کیا ہوگا تو اس پریہ آیات نازل ہوئیں ۔ ابوحیان تیمی اپنے باپ سے وہ حضرت علی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، رحم اللہ ابابکر زوجنی ابنتہ، وحملنی الی دارالھجر واعتق بلالا من مالہ۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر پر رحم کرے اس نے اپنی بیٹی میرے عقد نکاح میں دی، مجھے دار ہجرت کی طرف لے گئے اور اپنے مال سے حضرت بلال کو آزاد کیا۔ جب حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو خریدا توحضرت بلال نے آپ سے کہا، کیا آپ مجھے اپنے کام کے لیے خریدا ہے یا اللہ تعالیٰ کے لیے خریدا ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے۔ حضرت بلال نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ دو توحضرت ابوبکر نے اسے آزاد کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب کہا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق ہمارے سردار ہیں انہوں نے ہمارے سردار حضرت بلال کو آزاد کیا۔