کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 281
ائمہ متقدمین پر زبان درازی کرنا‘ ان کے محاسن بیان کرنے سے اعراض اور من گھڑت روایات کا بیان ان کے ہاں نہیں تھا۔ علماء حدیث نے انہیں اس چیز سے بچالیا تھا۔ اور انہوں نے وہ قواعد مقرر کردیئے تھے جس سے ان صحیح احادیث کی پہچان حاصل ہوسکتی تھی جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل پر دلالت کرتی ہیں ۔
بعض معمولی درجہ کے محدثین نے جو اس قسم کی روایات کو رد کیا ہے ‘جیسا کہ ابن عقدہ وغیرہ ؛ تو ان لوگوں کا مقصود یہ تھا کہ فضائل علی رضی اللہ عنہ میں جھوٹی احادیث تک کو جمع کرلیا جائے۔موضوع احادیث کے زور پر ان صحیح احادیث کو رد نہیں کیا جاسکتا جو حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل پر دلالت کرتی ہیں ‘ اور محدثین کے ہاں تواتر کے درجہ تک پہنچی ہوئی ہیں ۔ یہ احادیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کی احادیث سے زیادہ کثرت کے ساتھ ہیں اوردلالت میں واضح اور صریح ہیں ؛ سند کے اعتبار سے صحیح ہیں ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے یہ نہیں فرمایاکہ: ’’انہوں نے فضائل علی رضی اللہ عنہ میں ان احادیث کو صحیح قراردیا ہے جنہیں دوسرے محدثین نے صحیح نہیں کہا۔ امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے ‘آپ سے اس قسم کی جھوٹ بات کا صدور ہر گز نہیں ہوسکتا۔ بلکہ آپ سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ان سے وہ روایات نقل کی گئی ہیں ‘ جو دوسرے محدثین سے نقل نہیں کی گئیں ۔‘‘ لیکن آپ کے اس کلام میں کچھ اشکالات ہیں جن کے بیان کا موقع محل یہ نہیں ہے۔
٭ تیسرا جواب : پرندے کا گوشت کھانے میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کا سب سے محبوب انسان حاضر ہو اوروہ اس میں سے کچھ کھائے۔ اس لیے شریعت ہر نیک اور بدکردار کو کھانا کھلانے کا حکم دیتی ہے۔ اس میں کھانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ قربت کی کوئی بات نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت پوشیدہ ہے۔ تو پھر یہاں کون سی ایسی بڑی بات ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ یہ کام اللہ کا سب سے محبوب انسان ہی کرسکتا ہے ۔
٭ چوتھا جواب : اس حدیث میں رافضی مذہب کے مطابق تناقض پایا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مخلوق میں سب سے بڑھ کر محبوب ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے بعد خلیفہ بھی بنایا ہے ۔ جب کہ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو پتہ نہیں تھا کہ حضرت علی اللہ تعالیٰ کو تمام مخلوق میں سب سے بڑھ کر محبوب ہیں ۔
٭ پانچواں جواب : یہاں پر دو ہی صورتیں ممکن ہیں :
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اﷲتعالیٰ کو سب مخلوقات کی نسبت عزیز تر ہیں ۔
۲۔ آپ کو اس بات کا علم نہ تھا۔
بصورت اوّل آپ کے لیے ممکن تھا کہ آپ کسی کو بھیج کرحضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلالیتے ؛پھر آپ نے انہیں کیوں نہیں بلا لیا؟ جیسے کہ آپ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو بوقت ضرورت بلالیا کرتے تھے۔ یا پھر آپ نے دعا میں
[1] انس! اس دروازے سے جو پہلا انسان تم پر داخل ہوگا وہ امیر المؤمنین ؛ سید المرسلین قائد غر المحجلین اور خاتم الوصیین ہوگا۔‘‘ حضرت انس کہتے ہیں : میں نے دعا کی یا اللہ! ایسا آدمی انصار میں سے کسی ایک کو کردے۔ پھر اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے انس کون ہے؟ میں نے کہا : علی ہیں ۔ آپ نے خوشخبری دیتے ہوئے کچھ فرمایا اور انہیں گلے لگا لیا۔‘‘
ابن جوزی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں : علی بن عابس کچھ بھی نہیں تھا۔ اور یہ روایت جابر جعفی سے نقل کی گئی ہے؛ اس نے طفیل سے اور اس نے انس سے نقل کی ہے۔ زائدہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: جابر جعفی انتہائی جھوٹا انسان تھا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے جابر جعفی سے بڑھ کر جھوٹا کوئی دوسرا نہیں دیکھا۔ علامہ سیوطی نے اللآلی المصنوعہ ۱؍۳۵۹ پر کہا ہے: یہ پوری روایت سرا سر جھوٹ ہے۔سیوطی نے ابن جوزی کے کلام پر یہ عبارات زیادہ کی ہیں : میں کہتا ہوں : میزان میں ہے: یہ روایت من گھڑت ہے۔ ابراہیم بن محمد بن میمون کٹر قسم کا شیعہ تھا۔ اور لسان المیزان میں یہ جملہ بھی زیادہ ہے کہ : ازدی نے اسے ضعفاء میں شمار کیا ہے ۔ اور فرمایاہے: منکر الحدیث ہے۔ اور میں نے اپنے شیخ حافظ ابو الفضل کے خط سے نقل کیا ہے؛ آپ فرماتے ہیں : ’’ نا قابل اعتماد آدمی ہے ۔‘‘ اس کے قریب قریب روایت ابن عراق الکنانی نے تنزیہ الشریعہ ۱؍۳۵۷ پر نقل کی ہے۔
ہیثمی نے مجمع الزوائد ۹؍۱۲۵ پر کہا ہے:اس حدیث میں ہے: ’’ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا بچہ کھائے ۔‘‘ پھر فرمایا: ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چاردیواری میں تھا؛ تو آپ کے پاس ایک پرندہ لایا گیا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: ’’ ام ایمن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو روٹیوں میں رکھ کر ایک پرندہ ہدیہ بھیجا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے دریافت فرمایا: ’’ تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ۔‘‘ تووہ پرندہ لے کر حاضر ہوگئیں ۔‘‘ میں کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ بیان کیا ہے۔ امام طبرانی نے اوسط اور کبیر میں اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ابو یعلی میں تو بہت ہی زیادہ مختصر ہے۔ ہاں وہاں پر یہ الفاظ موجود ہیں : پس ابوبکر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کردیا؛ پھر عمر آئے تو آپ نے واپس کردیا؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے۔ تو آپ نے انہیں اجازت دیدی۔‘‘ معجم الکبیر کی اسناد میں حماد بن مختار ہے ؛ جس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں جب کہ بقیہ راوی صحیح ہیں ۔ اور ابو یعلی کی سند کے راوی ثقہ ہیں ۔ لیکن ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے۔
امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث ان کے تیس سے زیادہ اصحاب نے روایت کی ہے ۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس پر یہ تعلیق لگائی ہے: ’’ میں کہتا ہوں : ابن عیاض کو میں نہیں جانتا۔ اور میں ایک لمبے زمانہ سے یہ سوچتا تھا کہ امام حاکم اپنی مستدرک میں ایسی روایت نقل کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ لیکن جب میں نے اس کتاب پر تعلیقات لگانا شروع کیں تو وہاں کچھ ایسا خوفناک بھی دیکھنے کو ملا کہ اس کے مقابلہ میں یہ روایت آسمانوں پر ہے ۔‘‘