کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 280
حالانکہ حاکم تشیع کی جانب منسوب ہے۔ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں کوئی حدیث بیان کرو ‘ تو آپ نے فرمایا :’’ ایسی کوئی روایت میرے دل میں نہیں آتی ؛ یامیری زبان پر جاری نہیں ہوتی ۔ اس بات پر آپ کو مارا بھی گیا ؛ مگر آپ نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوئی حدیث بیان نہ کی۔ حالانکہ آپ وہی امام حاکم ہیں جنہوں نے اپنی کتاب اربعین میں صرف ضعیف ہی نہیں بلکہ ائمہ حدیث کے نزدیک موضوع احادیث تک جمع کی ہیں ۔ جیسا کہ وعدہ توڑنے والے اور بیعت توڑنے والے کو قتل کرنے کی روایت ۔ مگران کی شیعیت اور ان جیسے دوسرے ائمہ حدیث جیسے امام نسائی ‘ ابن عبد البر اور ان کے امثال کی شیعیت اس درجہ تک نہیں پہنچتی کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیں ۔ علماء حدیث میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں پایا جاتا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات شیخین پر فضیلت دیتا ہو۔ بلکہ ان میں شیعیت کا انتہائی درجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ باقی ان [1]
[1] تفصیل کے لیے دیکھئے۔ تذکرۃ الحفاظ للذہبی (۳؍۱۰۴۲۔۱۰۴۳۔ ترجمۃ للامام الحاکم)، البدایۃ النھایۃ لابن کثیر (۷؍ ۳۸۷)، یہ روایت سنن ترمذی(۳۷۲۱)، کتاب المناقب ‘ باب مناقب علی رضی اللّٰہ عنہ ؛(۳۸۰۵) میں مختصراً مروی ہے: اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا؛ تو آپ نے فرمایا: ’’ اے اللہ ! میرے پاس مخلوق میں اپنے نزدیک سب سے محبوب انسان کو لے آ؛ تاکہ وہ میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے؛ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ اسے کھایا۔‘‘امام ترمذی اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے؛ سدی سے اسے ہم صرف اس سند کے ساتھ جانتے ہیں ۔یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے امام شوکانی رحمہ اللہ نے فوائد مجموعہ میں ص ۳۸۲پر بھی نقل کیا ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ المختصر‘‘ میں کہا گیا ہے کہ اس حدیث کی کئی اسناد ہیں ‘ جوکہ تمام کی تمام ضعیف ہیں ۔اسے ابن جوزی رحمہ اللہ نے موضوعات میں درج کیا ہے۔جب کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے مستدرک حاکم میں نقل کرتے ہوئے صحیح کہا ہے۔جس پر بہت سارے اہل علم نے اعتراض کیا ہے۔ جو زیادہ تفصیل میں جانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ سیر اعلام النبلاء میں امام حاکم رحمہ اللہ کے حالات زندگی میں دیکھ لے۔ نیز دیکھیے: تحفۃ الاحوذی(۴؍۳۲۸)۔ موضوعات میں اس کے قریبی معنی میں ایک اور روایت ۱؍۳۷۶ پر نقل کی گئی ہے: اس میں ہے: ’’ حضرت انس فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : اے انس ! میرے لیے وضوء کا پانی لاؤ۔ پھر آپ نے کھڑے ہوکر دو رکعت نماز ادا کی اور فرمایا: ’’اے(