کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 273
مباہلہ کا واقعہ :
جب کہ مباہلہ کا واقعہ سن ۹ یا ۱۰ ہجری میں اس وقت پیش آیاجب نجران کا وفد حاضر خدمت ہوا۔
٭ چوتھا جواب : اس حدیث کے جھوٹ ہونے کے دلائل صاف واضح ہیں ۔ان میں سے ایک : شیعہ مصنف کہتا ہے کہ :’’جب مباہلہ کادن تھا توآپ نے مہاجرین وانصار کے مابین بھائی چارہ قائم کیا ۔‘‘
مباہلہ کا واقعہ وفد ِنجران کی آمد کے موقعہ پر ہوا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی آیات نازل فرمائیں ؛یہ سن نوہجری کے آخر یا دس ہجری کے شروع کا واقع ہے۔لوگوں کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نجران کے عیسائیوں کیساتھ مباہلہ وقوع پذیر نہیں ہوا تھابلکہ انہیں صرف دعوت ِمباہلہ دی گئی تھی۔ انھوں نے مشورہ کی مہلت طلب کی۔جب خلوت میں مشورہ کیا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے:’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی ہیں اور جو قوم نبی سے مباہلہ کرتی ہے برباد ہو جاتی ہے۔‘‘ چنانچہ اہل کتاب میں یہ سب سے پہلے لوگ تھے جنھوں نے جزیہ دینا تسلیم کیا اور چلے گئے۔‘‘[1]
لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مباہلہ کے دن کوئی مؤاخات نہیں ہوئی ۔
٭ پانچواں جواب: مہاجرین و انصار کے مابین موأخات کا واقعہ پہلی سن ہجری میں دار بنی النجار میں پیش آیا تھا۔ مباہلہ اورموأخات کے مابین کئی سال کافاصلہ ہے۔
٭ چھٹا جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں ہی مہاجر تھے۔ان کے مابین مؤاخات نہیں قائم ہوئی تھی۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ بھائی چارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین نہیں تھا۔یہ بات صحیحین کی روایت کے موافق ہے کہ مؤاخات مہاجرین و انصار کے مابین تھی؛ مہاجرین و مہاجرین کے مابین نہیں تھی۔
٭ ساتواں جواب: ’’أما ترضی أن تکون مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰیْ۔‘‘
’’کیاتم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہیں میرے ساتھ وہی منزلت ہو جیسے ہارون حضرت موسیٰ کے ساتھ ۔‘‘
یہ جملہ آپ نے ایک ہی بار غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ اس مجلس کے علاوہ آپ نے کسی بھی دوسرے موقع پر آپ نے اصلاً یہ جملہ ارشاد ہی نہیں فرمایا۔اس پر تمام محدثین اہل علم کا اتفاق ہے ۔ جب کہ ان کی روایت کردہ حدیث موالاۃ کے الفاظ بھی غدیر خم کے موقع پر ارشاد فرمائے تھے۔ اس کے علاوہ کسی اور مجلس میں آپ نے یہ جملے ارشاد ہی نہیں فرمائے۔
٭ آٹھواں جواب : اس سے پہلے حدیث مواخات کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ اس حدیث میں علی الاطلاق عموم ہے
[1] اس حدیث کا ضعیف ہونا بیان کیا جا چکا ہے۔ مگر یہاں پر ایک اور حوالہ ذکر کررہے ہیں ۔ مجمع الزوائد ۹؍۱۱۱؛ پر ہیثمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین مواخات پر ایک روایت ذکر کی ہے۔ ہیثمی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے :’’ یہ روایت طبرانی الکبیر اور الاوسط میں روایت کی ہے۔ اس میں حامد بن آدم المروزی ہے؛ جو کہ کذّاب ہے۔ پھر ایک اور روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے؛ اور اس کے متعلق کہا ہے: ’’طبرانی نے اسے اوسط میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں اشعث بن عم الحسن ابن صالح ہے؛ وہ ضعیف ہے؛ اس کے بارے میں ہمیں کچھ زیادہ معلوم نہیں ۔ اور اس سلسلہ کی تیسری حدیث طبرانی میں حضرت ابو مامہ سے مروی ہے؛ اس کی سند میں بشر بن عون ہے ؛ جو کہ ضعیف ہے۔