کتاب: منہاج السنہ النبویہ (جلد8،7) - صفحہ 218
’’ میں آپ کا بھائی ضرور ہوں مگر تمہاری بیٹی میرے لیے حلال ہے۔‘‘[1] روایات صحیحہ میں آیا ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ اسلامی برادری سب سے بہتر ہے۔‘‘[2] احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا:’’ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟‘‘ فرمایا :نہیں ، تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ ہیں جومیرے بعد پیدا ہوں گے۔ وہ بلا دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔[3] مراد یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک بھائی چارے سے بھی بڑھ کر مخصوص چیز ہے یعنی صحبت ۔ اور ان کے لیے صحبت کے بغیر بھائی چارہ ہے۔اﷲتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں : ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ﴾ (الحجرات:۱۰) ’’بیشک سب مومن بھائی بھائی ہیں ۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لا تقاطعوا ؛ولا تدابروا،ولا تباغضوا،ولا تحاسدوا،وکونوا عباد اللّٰہِ إخواناً))[متفق علیہ] ’’ آپس میں قطع رحمی نہ کرو۔اور نہ ہی آپس میں حسد کرو،اور نہ ہی بغض رکھو،اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘ [4] نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک مسلم دوسرے مسلم کا بھائی ہوتا ہے؛ وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظالموں کے سپرد کرتا ہے۔‘‘ [5] نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((والذي نفسي بیدہ ! لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ من الخیر ما یحب لنفسہ))۔[بخاری۱۳] ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو
[1] رواہ البخاری ۳؍۹۶؛ ومسلم ۴؍۱۹۶۰ [2] صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب القراء من اصحاب رسول اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہم (ح۵۰۰۰)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عبد اللّٰہ بن مسعود و امہ رضی اللّٰہ عنہما (حدیث:۲۴۶۲) [3] صحیح بخاری، کتاب الصلح، باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان....‘‘ (حدیث: ۲۶۹۹)، مطولاً۔